تعدد ازواج کا م
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۳۰
تعدد ازواج کا م
ہے ایک قانون کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس کی قدر و قیمت متعین تعدد ازدواج کا مسئلہ ایک قانون کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس کی قدر و قیمت کرنے کے لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ قانون جو وضع کیے جاتے ہیں وہ کس اصول کے تحت وضع کیے جاتے ہیں۔
قانون ایک اعتبار سے ، فرد اور سماج کے حقوق متعین کرنے کا نام ہے۔ قانون عین اپنے اساسی مفہوم کے اعتبار سے فرد کی ان سرگرمیوں کی حد بندی کرتا ہے جو سماج کے دوسرے افراد کے لیے مضر ہیں یا مضر ہو سکتی ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اپنی حد سے تجاوز کرتا ہے تو قانون ایسے فرد کے لیے ایسی سزا مقرر کرتا ہے جس سے سماج کی داد رسی ہو سکے۔ قانون کے اس تصور کے مطابق، تعدد ازدواج کا اصول قانون کی منشا سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ قانون کی روح یہ ہے کہ نہ صرف ایک فرد کو بلکہ پورے سماج کو زندگی کے مواقع حاصل ہوں۔ اس کے مطابق، جب سماج میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے اور مردوں کی تعداد کم، تو یہ عین سماجی تقاضا بن جاتا ہے کہ اس مسئلہ کو شریفانہ طریقہ پر حل کیا جائے۔ اور اس مسئلہ کا شریفانہ حل ، بلاشبہ، وہی ہے جس کو تعدد ازدواج کہا جاتا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ سماج کی خاطر اس ذمہ داری کو قبول کریں جس طرح وہ دوسری ذمہ داریوں کو سماج کی خاطر قبول کیے ہوئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues