سفر نامه ۔ ۲
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۳۸
درمیان تقریر ہوائی۔ مغرب کی نماز کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی۔ یہ دوسری نشست صرف مسلمانوں پر مشتمل تھی۔
زیادہ تر سوال ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت کے بارے میں کیا گیا۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک ہندوستان کا معاملہ وہی ہے جو ساری دنیا کا معاملہ ہے۔ خواہ ہندوستان ہو یا لیبیا یا پاکستان یا سعودی عرب یا یورپ اور امریکہ ، ہر جگہ کامیاب زندگی گزارنے کا راز صرف ایک ہے ۔ اور وہ برداشت اور ٹالرنس ہے۔ کسی بھی ملک میں اگر آپ کامیاب ہیں تو اس لئے کامیاب ہیں کہ وہاں آپ برداشت کرکے رہتے ہیں۔ اور جہاں آپ بنتا ہر نا کام ہیں وہاں اسی لئے ناکام ہیں کہ وہاں آپ نے برداشت کو کھو دیا ہے۔
۳ اکتوبر ۱۹۹۰ کو طرابلس سے پی آئی اے کی فلائٹ نمبر ۳۰۷ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ حیرت انگیز طور پر اس کے اندر بہت کم مسافر تھے۔ میں نے کھڑے ہو کر جہاز کے چاروں طرف دیکھا تو سیٹوں پر اتنے کم آدمی تھے کہ ایسا معلوم ہوا کہ گویا جہاز خالی حالت میں اُڑ رہا ہے۔ میں نے جہاز کے عملے سے پوچھا تو معلوم ہو کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیٹیں بالقصد خالی رکھی گئی ہیں۔ کویت اور عراق میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانی جو کویت پر حملے کے بعد بھاگ کر اردن آگئے تھے ، ان کو روزانہ عمان سے پاکستان لے جایا جا رہا ہے۔ ان پناہ گزینوں کی خاطر یہ سیٹیں خالی رکھی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ عمان میں جہاز کا اُترنا خصوصی معاملہ کے طور پر ہے کیوں کہ عام قاعدہ کے مطابق یہ جہاز عمان میں نہیں اترتا۔
میں نے سوچا کہ ان پاکستانیوں کی وہ کیا خصوصیت ہے جس نے ان کے اندر یہ قیمت پیدا کر دی کہ ان کے لئے خالی جہاز بھیجے جائیں۔ ذہن نے کہا کہ اس کی وجہ ان پاکستانیوں کی مظلومیت ہے۔ کبھی دولت اور اقتدار سے آدمی کے اندر قیمت پیدا ہوتی ہے۔ کبھی آدمی کا عاجز اور مظلوم ہونا اس کے اندر وہی قیمت پیدا کر دیتا ہے جو عام حالات میں قوت و طاقت کے ذریعہ کسی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔
یہ سوچ کر دل بھر آیا۔ میں نے کہا کہ خدا یا ، میرا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ میرے پاس طاقت والی چیزوں میں سے کوئی چیز موجود نہیں۔ میرے پاس صرف عجز ہے۔ تو میرے عجز کو قبول فرما۔ ایک عاجز کے لئے وہ فیصلہ فرما دے جو عام حالات میں صرف طاقتور کا حق سمجھا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues