سفر نامه ۔ ۲
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۳۷
ملک کا حکمراں بن جائے، ہر جگہ وہ حالت امتحان میں ہے۔ مگر مذکورہ سیاسی تفسیر کے مطابق ، حکومت مطلوب حالت قرار پاتی ہے اور غیر حکمرانی کی حالت غیر مطلوب حالت۔
اسکول کے ایک طالب علم کا امتحان ہو تو اس کو کئی پرچے دئے جاتے ہیں جن کا تعلق مختلف موضوعات سے ہوتا ہے۔ مثلاً زبان، تاریخ، سماجیات ، سائنس وغیرہ۔ ان میں سے ہر پرچہ بذات خود مطلوب ہوتا ہے۔ یہاں ایک اور دوسرے میں کوئی فرق نہیں۔ اسی طرح جس شخص کو جو احوال ملے ہوں، وہی احوال اس کے لئے مطلوب احوال ہیں اور انھیں احوال میں اس کو اپنا امتحان دینا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ تعبیر آدمی کے اندر سے محرک عمل چھین لیتی ہے (هذا التفسير يسلب من الإنسان الدافع للعمل ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص قرآن میں انفاق کا حکم دیکھتا ہے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو۔ اب اگر ایک شخص یہ سمجھے کہ کم یا زیادہ جو بھی میرے پاس ہے، اس میں سے مجھے خرچ کرنا ہے تو حکم کو پڑھتے ہی اس کے اندر انفاق کی نفسیات پیدا ہو جائے گی۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ سمجھ لے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو مؤثر کار کا عطیہ دو، تو عام انسان کے اندر انفاق کی نفسیات نہیں ابھرے گی۔ کیوں کہ وہ اس معنی میں انفاق کے حکم پر عمل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
یہی حال سیاسی تفسیر کا ہے۔ یہ تفسیر آدمی کے اندر عمل کے بجائے انتظار اور توقف کی نفسیات پیدا کرتی ہے۔ اس کے مطابق ، اصل عمل کا آخری آغاز اس وقت ہو گا جب حکومت پر قبضہ ہو جائے۔ اس لئے وہ حکام سے ٹکراؤ کی نفسیات تو ابھارتی ہے مگر ذاتی عمل کی نفسیات نہیں ابھارتی۔ هذا التفسير يُثبت فى الانسان نفسية محاسبة الحكام لا نفسية محاسبة الذات. ہندوستان اور پاکستان کے لوگ یہاں کافی تعداد میں ہیں۔ انھوں نے ۲ اکتوبر ۱۹۹۰ کوطالس کے ایک ہال میں سیرت النبی کا جلسہ کیا۔ اس موقع پر مجھے خطاب کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ میں نے جلسہ سے خطاب کیا۔ اس جلسہ میں مسلمان اور ہندو دونوں ہی شریک ہوئے۔ سفیر ہند مسٹر گلیا نی بھی موجود تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام وقتی نہیں تھا، اس کا تعلق (relevance) عصر حاضر کے لئے بھی پوری طرح موجود ہے. عصر اور مغرب کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues