سفر نامه ۔ ۲
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۴۰
سے متحدہ دنیا میں رُک گئے۔
جسارت کے صفحہ اول کی ایک خبر کی سرخی تھی: نواز شریف نے ملکی سیاست کو لسانی اور گروہی سیاست کی نذر کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ کی قرارداد : نواز شریف صاحب اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر ہیں، اور جماعت اسلامی اس اتحاد میں پوری طرح شامل ہے۔ اس کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف اخبار میں اس قسم کے بیان چھپ رہے ہیں۔ اس خبر کو میں نے پڑھا تو میری زبان پر یہ الفاظ آگئے: وہ اتحاد بھی کیسا عجیب اتحاد ہو گا جو مُلک کو گروہی سیاست کے خانوں میں بانٹ دے۔ شام کو جہاز دمشق پہنچا۔ جہاز سے اتر کر کچھ وقت دمشق کے ہوائی اڈہ پر گزرا۔ مغرب کی نماز بھی جماعت کے ساتھ دمشق کے ہوائی اڈہ پر پڑھی۔
دمشق کا نام سب سے پہلے میں نے غالباً دس سال کی عمر میں سنا جب مکہ مولانا فیض الرحمان اصلاحی (وفات ۱۸ فروری ۱۹۷۲ء) کے ذریعہ میں نے شیخ سعدی شیرازی (۱۲۹۲۔ ۱۲۱۳ء) کی فارسی کتاب بوستاں پڑھی۔ یہ منظوم کتاب اخلاقی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اس کی ایک حکایت اس شعر سے شروع ہوتی ہے :
چناں قحط سالے شد اندر دمشق کہ یاراں فراموش کردند عشق اس نظم میں دمشق کے ایک قحط کا ذکر ہے جس میں عشق کرنے والے اپنا عشق بھول گئے تھے۔ شیخ سعدی نے قحط کی تصویر کشی کرتے ہوئے جو اشعار لکھے ہیں، ان میں سے ایک شعر یہ ہے : نہ بر کوہ سبزہ نہ در باغ شاخ ملخ بوستاں خوردومردم تلخ نہ پہاڑ پر ہریالی باقی رہی اور نہ درخت پر شاخ، ٹڈیاں باغ کو کھا گئیں اور لوگوں نے ٹڈیوں کو، دمشق ایک ایسا شہر ہے جو اسلامی قافلہ کے سفر کے تیسرے مرحلہ کی یاد دلاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، امیر معاویہ نے دمشق کو اسلامی سلطنت کا دارالخلافہ بنایا۔ یہاں سے اسلام کی تاریخ کا تیسرا دور شروع ہوا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز ۶۱۰ء میں ہوا۔ اس وقت کہ اسلامی دعوت کا مرکز تھا ۶۲۲ء میں ہجرت ہوئی اور مدینہ اسلام کا مرکز قرار پایا۔ بنو امیہ کے ہاتھ میں اقتدار آیا تو انہوں نے ۶۶۱ء میں دمشق کو اسلام کے مرکز کی حیثیت دے دی۔ ۷۵۰ء میں بنو عباس اسلامی اقتدار پر قابض
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues