Al-Risala · March 1993 · page 41

سفر نامه ۔ ۲

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۴۱

ہو گئے اور انہوں نے بعض سیاسی اسباب کے تحت بغداد کو اپنا دارالخلافہ بنانا پسند کیا جو ۱۲۵۸ء تک باقی رہا۔

اس کے بعد کئی نسبتاً چھوٹے اسلامی مراکز بنے۔ عبدالرحمن اموی ۷۵۶ء میں اسپین میں داخل ہوا اور یہاں اس شاندار عہد کا آغاز کیا جس کو "مسلم اسپین" کہا جاتا ہے۔ یہ دور ۱۴۹۲ء میں آخری طور پر ختم ہوا۔ اس درمیان میں مختلف چھوٹی بڑی سلطنتیں قائم ہوئیں ۔ ان میں سے دو کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ ایک ، عثمانی خلافت جس کا مرکز استنبول تھا۔ یہ ۱۳۰۰ء کے بعد شروع ہوئی اور چھ صدیوں تک شان وشوکت کے ساتھ قائم رہی۔ ۱۹۲۴ء میں کمال اتاترک کے إلغاء خلافت کے اعلان سے رسمی طور پر اس کا خاتمہ ہوگیا۔ دوسری، مغل سلطنت ہے جو بابر کے فتح دہلی ۱۵۲۶ء سے باقاعدہ طور پر قائم ہوئی اور ۱۸۵۷ء میں بہادر شاہ ظفر پر ختم ہوگئی۔

شام ایک عرب ملک ہے، جس طرح سعودی عرب اور کویت عرب ملک ہیں۔ مگر سعودی عرب اور کویت پٹرول کے خزانوں سے مالا مال ہیں، جب کہ شام کے پاس اس قسم کی کوئی قدرتی دولت نہیں۔ دوسری طرف حدیث کی پیشین گوئیوں کے مطابق ، حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول شام کے شہر دمشق میں ہوگا جو کہ بلا شبہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد سے قیامت تک پیش آنے والے تمام واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کی تقسیم کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ اس نے امریکہ کو بہترین جغرافیہ دیا اور بنگلہ دیش کو اس کے برعکس جغرافیہ۔ کسی کو معتدل موسم سے نوازا اور کسی کے حصے میں سخت موسم لکھ دیا۔ بعض ملکوں کے نیچے دولت کے خزانے رکھ دئے مگر نزول مسیح جیسے غیر معمولی واقعہ کے ظہور کے لئے ایک ایسے علاقہ کو منتخب کیا جو مادی دولت میں دوسرے خوش نصیب ملکوں سے پیچھے تھا۔ موجودہ دنیا میں ہمارے لئے صرف یہی ممکن ہے کہ ہم اس "تقسیم" پر راضی ہو جائیں ۔ اس ربانی تقسیم میں کیا کیا مصلحتیں چھپی ہوئی ہیں، ان کو جاننے کے لئے قیامت کا انتظار کرنا چاہئے۔

خلیج کے موجودہ بحران کے نتیجہ میں بالکل نئے قسم کے حالات سامنے آئے ہیں۔ مثلاً شام اسرائیل کا سخت دشمن تھا، کیوں کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں اسرائیل نے شام کا ایک علاقہ اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ چوں کہ امریکہ اسرائیل کا ساتھی ہے، اس لئے شام کو امریکہ سے بھی سخت دشمنی تھی۔ مگر کویت کی صورتحال

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page