Al-Risala · March 1993 · page 47

سفر نامه ۔ ۲

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۴۷

تعلیم سے زیادہ سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستان میں یہ برائی سب سے پہلے جماعت اسلامی نے سید ابو الاعلیٰ مودودی کے زمانہ میں شروع کی۔ انہوں نے طلبہ کو منظم کرکے انھیں اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا۔ جب دوسری جماعتوں نے دیکھا کہ جماعت اسلامی طلبہ کو سیاسی طاقت کے طور پر استعمال کررہی ہے تو وہ بھی یہی کرنے لگے۔ کسی قوم کے نوجوانوں کو تعلیم سے ہٹا کر سیاست میں لگانا بلاشبہ اس قوم کے ساتھ دشمنی ہے، اور دشمنی کی یہ قسم ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ ایک صاحب جو یہاں کی اصطلاح میں "مہاجر" ہیں، انھوں نے کہا کہ ہم نے زبردست تحریک چلا کر پاکستان بنوایا۔ ہم سمجھتے تھے کہ پاکستان بنتے ہی برصغیر کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ مگر پاکستان کو بنے ہوئے آدھی صدی بیت گئی اور مسائل کا حل ہونا تو درکنار، ان میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا۔ میں نے کہا کہ یہ سادہ سی بات نہیں بلکہ بہت گمھیر بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ برصغیر ہند کے ہندو مسلمانوں کے لئے مدعو کے درجہ میں تھے۔ مسلمانوں کو انھیں دین حق کا پیغام دینا تھا۔ مگر مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس انھوں نے ہندوؤں کو اپنا حریف اور رقیب سمجھ کر ان سے ٹکراؤ شروع کر دیا۔ انھوں نے علیحدگی اور تقسیم کا نعرہ لگایا۔ آخر کار مقاطعہ اور مہاجرت کی وہ صورت سامنے آئی جس کا نام پاکستان ہے۔

اس طرح کا عمل اللہ تعالیٰ کی اسکیم کے سراسر خلاف ہے۔ اللہ کی مرضی یہ ہے کہ مدعو قوموں کو دعوت دی جائے اور ایک طرفہ صبر کے ذریعہ اس کو اتمام حجت کے مرحلہ تک پہنچایا جائے ۔ اتمام حجت سے پہلے اگر مقاطعہ اور مہاجرت کا طریقہ اختیار کیا جائے تو وہ اللہ کے نزدیک سراسر غلط ہوگا۔ پاکستانی مسلمانوں کو میرا مشورہ ہے کہ ہندوستان کے معاملہ میں وہ اپنے عداوتی ذہن کو بدلیں۔ ہندوستان کی طرف سے اگر کوئی زیادتی کی بات ہوتی ہے تو اس کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک طرفہ طور پر اس کے خیر خواہ بنیں۔ پاکستان کے مسلمان اگر ایسا کریں تو یہاں سے وہ اپنی ایک نئی تاریخ کا آغاز کرسکتے ہیں۔

۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء کی صبح کو میں دوبارہ دہلی واپس پہنچا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page