خبر نامه اسلامی مرکز ۷۸
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۴۸
خبر نامه اسلامی مرکز ۷۸
غالب اکیڈمی نئی دہلی، میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو ایک سمپوزیم ہوا۔ اس کا موضوع تھا: مذہب فرقہ پرستی نہیں سکھاتا۔ اس سمپوزیم کی دعوت میں مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی گئی۔ اس خلاصہ یہ تھا کہ فرقہ وارانہ جھگڑوں یا اور دوسرے تمام جھگڑوں کو ختم کرنے کی تدبیر اعراض ہے گھر سے لے کر باہر تک کے تمام جھگڑوں کا واحد حل یہی ہے۔ دور درشن نئی دہلی، نے نیشنل پروگرام کے تحت ۱۳ دسمبر کی شام کو اور ۱۴ دسمبر ۱۹۹۲ کی صبح کو صدر اسلامی مرکز کے دو خطابات نشر کئے۔ ان دونوں خطابوں میں خصوصیت سے امن اور انسانیت پر زور دیا گیا تھا۔ آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۱۳ دسمبر ۱۹۹۲ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو نشر کیا گیا۔ اس انٹرویو میں بتایا گیا تھا کہ اسلام ہر حال میں امن کا پیغام دیتا ہے۔ سماج میں امن کا ماحول قائم کرنا اسلام کا اہم ترین تقاضا ہے۔ اچاریہ منی سوشیل کمار، سوامی چیدانند، شانتی لال موتھا اور صدر اسلامی مرکز کے تعاون سے ایک شانتی یاترا نکالی گئی۔ یہ شانتی یاترا ۱۵ دسمبر کو پونہ سے شروع ہو کر ۲۱ دسمبر ۱۹۹۲ کو ناگپور میں ختم ہوئی۔ اس کا مقصد امن اور انسانیت کا پرچار کرنا تھا۔ اس کی روداد سفر نامہ کے تحت ملاحظہ کریں۔ انگریزی ہفتہ وار ایشیا ویک کے نمائندہ مسٹر روی نے ۲۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو صدر اسلامی مرکز کا مفصل انٹرویو لیا۔ ایشیا ویک ہانگ کانگ سے نکلتا ہے۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ۶ دسمبر کے بعد پیش آنے والے حالات سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ انڈیا میں ہمارے لئے جو آپشن ہے وہ سیکولرزم اور ہندوازم کے درمیان نہیں ہے۔ بلکہ اصلی آپشن سیکولرزم اور انارکی کے درمیان ہے۔ اگر سیکولرزم کو چھوڑ دیا گیا تو اس کے بعد ملک میں جو چیز آئے گی وہ انارکی ہوگی نہ کہ فی الواقع ہندوازم یا ہندو راشٹریہ۔ پی ٹی آئی کے نمائندہ نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ۲ جنوری ۱۹۹۳ء کو بیشتر انگریزی اور ہندی روزناموں میں شائع ہوا۔ اس کا ایک حصہ دور درشن نے بھی بتایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues