Al-Risala · March 1993 · page 49

خبر نامه اسلامی مرکز ۷۸

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۴۹

اس انٹرویو کا موضوع زیادہ تر موجودہ حالات اور مسلمان تھا۔

ہندی روزنامہ جن ستا کے نمائندہ مشرام بہادر رائے نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو جن ستا کے شمارہ ۳ جنوری ۱۹۹۳ میں تفصیل کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ زیادہ تر سوالات وجواب کا تعلق موجودہ حالات سے تھا۔

۴ جنوری ۱۹۹۳ کو آل انڈیا انٹر نیشنل سنٹر میں ایک مذاکرہ ہوا۔ اس کا عنوان تھا : Tackling the Ayodhya crisis اس میں دہلی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کا موضوع اجودھیا مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا۔ منتظمین کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس مذاکرہ میں شرکت کی اور وہاں بتایا کہ اسلام کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ اس کی تفصیلی رپورٹ اخبارات میں آچکی ہے۔ مثلاً قومی آواز (۵ جنوری ۱۹۹۳) میں۔

سندھیا جین نمائندہ سنڈے میل، نے ۱۴ جنوری ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق نئے ہندوستان میں مسلمانوں کی پوزیشن سے تھا۔

ودیشا (مدھیہ پردیش) کے ہندو تعلیم یافتہ طبقہ کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ودیشا کا سفر کیا۔ ۱۲ جنوری ۱۹۹۳ کو وہاں دو پروگرام ہوئے۔ ایک عمومی اجتماع۔ اس میں ۹۵ فیصد تعداد ہندو تعلیم یافتہ حضرات کی تھی۔ اس کے علاوہ ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ خطاب کا موضوع تھا : بہتر سماج کی تعمیر۔

ایک صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں: میں نے آپ کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ الرسالہ بھی پڑھتا ہوں۔ ان کو پڑھنے کے بعد میں نے صحیح طور پر اسلام کو سمجھا۔ اور فکری طور پر اس کی طرف مائل ہوا۔ اس سے پہلے میں نماز نہیں پڑھتا تھا۔ حمد اللہ کو آپ کی تحریروں کے ذریعہ ہدایت دینا منظور تھا۔ اب میں پانچوں وقت کی نماز پڑھنے لگا ہوں رسید محمد برکت الرحمن ، کھڑک پور، بنگال)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page