Al-Risala · April 1993 · page 4

عقل کا امتحان

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۴

عقل کا امتحان

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ فرعون کے دربار میں ایک صاحب (رجل مومن) تھے جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے ہوئے تھے مگر انھوں نے اپنے ایمان کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ آخر ایک موقع پر جب فرعون نے کہا کہ اس کا ارادہ ہے کہ وہ موسیٰ کو قتل کر دے ، اس وقت وہ خاموش نہ رہ سکے۔ انھوں نے فرعون اور تمام اہل دربار کے سامنے حضرت موسیٰ کی حمایت میں تقریر کی۔ یہ تقریر قرآن کی سورہ نمبر ۴۰ میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔

قرآن میں اس رجل مومن کی تقریر کو نقل کرتے ہوئے ایک مقام پر یہ الفاظ ہیں : وقال الذى آمن يا قوم اتبعون اھدکم سبيل الرشاد (اور جو شخص ایمان لایا تھا اس نے کہا کہ اے میری قوم، تم لوگ میری پیروی کرو، میں تمہاری رہنمائی سیدھے راستے کی طرف کر رہا ہوں) المومن ۳۸ دوسری طرف قرآن میں فرعون کی تقریر کے ذیل میں بھی یہ الفاظ آئے ہیں: قال فرعون ما أريكم إلا ما أرى وما اهديكم الا سبيل الرشاد (فرعون نے کہا کہ میں تم کو اپنی سوچ ہی سمجھتی رائے بتا رہا ہوں اور میں تمہاری رہنمائی ٹھیک سیدھے راستہ کی طرف کر رہا ہوں) المومن ۲۹ فرعون کی حیثیت رجل کا فر کی تھی مگر اس نے بھی وہی بات کہی جو رجل مومن نے کہی۔ دونوں نے کہا کہ میں تم کو سبیل الرشاد (راہ راست) کی طرف رہنمائی کر رہا ہوں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں حق کا مبلغ جو الفاظ بولتا ہے وہی الفاظ باطل کے مبلغ بھی بولتے ہیں۔ دونوں صداقت کے حوالے سے اپنی بات پیش کرتے ہیں۔ حق کا مبلغ اگر دلائل حق کے حوالے سے اپنی بات کہتا ہے تو باطل کے مبلغ بھی بظاہر دلائل حق ہی کے نام پر لوگوں کو اپنی طرف بلاتے ہیں۔ مگر ایک کی دلیل حقیقی دلیل ہے اور دوسرے کی دلیل بناوٹی دلیل۔ یہاں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ دونوں کے درمیان تمیز کرے۔ وہ شوشہ اور حقیقت کے فرق کو سمجھے۔ وہ مغالطہ اور دلیل کو الگ کر کے دیکھے۔ وہ الفاظ سے گزر کر معانی کو پہچانے۔ جو شخص خدا کی دی ہوئی عقل کو صحیح طور پر استعمال کرے وہ کامیاب ہوگا۔ اور جو شخص خدا کی دی ہوئی عقل کو استعمال نہ کر سکے وہ یہاں ناکام و نامراد ہو کر رہ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page