Al-Risala · April 1993 · page 5

ہدایت کا قانون

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۵

ہدایت کا قانون

قرآن میں ارشاد ہوا ہے : دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ۔ ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ پس جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے ، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سننے والا ، جاننے والا ہے۔ اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے ، وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے مددگار شیطان ہیں ، وہ ان کو اجالے سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں (البقرہ ، ۲۵۷) ہدایت کا راستہ مکمل طور پر واضح ہو جانے کے بعد کیوں شیطان کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ کسی شخص کو روشنی سے تاریکی کی طرف اور ہدایت سے گمراہی کی طرف لے جائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت خواہ کتنی ہی زیادہ واضح ہو جائے ۔ اس عالم امتحان میں بہر حال یہ گنجائش باقی رہتی ہے کہ کلام ہدایت کی غلط تاویل کر کے اس کا الٹا مفہوم نکالا جا سکے ۔

ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اسلام کا اور قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ پھر اس کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام میں اتنے زیادہ تضادات ہیں کہ میرے جیسا آدمی تو کبھی اس کو سچا مذہب نہیں مان سکتا۔ میں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دیجیے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے قرآن میں ایک طرف لکھا ہوا کہ لا اکراہ فی الدین (دین میں کوئی زبردستی نہیں) دوسری طرف بخاری میں یہ حدیث ہے کہ آپ کے پیغمبر نے کہا کہ امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ ( مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں۔ یہاں تک کہ وہ کہہ دیں کہ لا الہ الا اللہ) آیت میں عمومی قانون کا ذکر ہے اور حدیث میں استثناء کا۔ مگر دونوں حکموں کو یکساں قرار دینے کی وجہ سے ان میں تضاد نظر آنے لگا۔ جو شخص کلام الہی کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھے، جو واقعی طور پر کلام کے منشا کو جاننا چاہے، اس کو اللہ کی نصرت حاصل ہوگی اور وہ کلام کے اصلی مفہوم تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس کے برعکس جو شخص غیر سنجیدہ ہو، جو بگڑے ہوئے ذہن کیساتھ کلام کو پڑھے، اس کا ساتھی شیطان بن جائے گا۔ وہ کلام کا الٹا مفہوم اس کے ذہن میں ڈالے گا۔ وہ غلط تاویل کی راہ میں اس کو بھٹکاتا چلا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page