Al-Risala · April 1993 · page 7

کلمہ حکمت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۷

کلمہ حکمت

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے احسن بن علی کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے میرے بیٹے، تم اللہ سے ڈرو اور اس سے ڈرو جو اللہ سے نہیں ڈرتا (یَابُنَيَّ، خَفِ اللَّهَ خَوْفَ مَنْ لَا يَخَافُ اللَّهَ)

یہ ایک بے حد جامع نصیحت ہے۔ جو آدمی اللہ کی پکڑ سے ڈرے، وہ زبان سے لے کر عمل تک ہر قسم کی برائی نے اپنے آپ کو بچائے گا۔ اسی طرح جو آدمی اللہ سے بے خوف لوگوں کے بارہ میں محتاط رہے، وہ ایسے لوگوں کے شر سے محفوظ رہے گا۔

اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ وہ ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ ایسا آدمی کرنے سے پہلے سوچتا ہے۔ کیوں کہ اس کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اس نے کوئی غلط بات کہی یا کوئی غلط کام کیا تو وہ اس کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔

اللہ کا ڈر آدمی کے اندر یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ وہ اس دنیا میں تنہا نہیں ہے۔ بلکہ اس کے اوپر اس کا خالق اور مالک ہے۔ ایسا آدمی ہر آن اپنے آپ کو زیرِ نگرانی سمجھنے لگتا ہے، اور وہ آدمی ہر لمحہ اپنے آپ کو زیرِ نگرانی سمجھے وہ کبھی غلط گوئی یا غلط کاری میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔ اللہ کا ڈر تمام برائیوں کے خلاف طاقتور ترین چیک ہے۔ وہ اس بات کا ضامن ہے کہ آدمی صحیح رخ پر سوچے اور صحیح انداز میں فیصلہ کرے ۔ وہ اپنی ذاتی مرضی کے بجائے خدا کی مرضی کو اپنا ر ہنما بنالے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کا ڈر دانائی کا سر ہے (رَأْسُ الْحِكْمَةِ مَخَافَةُ اللَّهِ)

اس کے برعکس وہ انسان ہے جس کا سینہ اللہ کے ڈر سے خالی ہو۔ جو اس سے غافل ہو کہ اس کو مرنا ہے اور مرنے کے بعد اللہ کے یہاں حساب دینے کے لیے حاضر ہونا ہے۔ جس کو نہ خدا کے غضب کی پروا ہو اور نہ جہنم کے عذاب کا اندیشہ، ایسا آدمی یقینی طور پر بے فکر ہو جائے گا۔ وہ کسی اصول کا پابند نہ ہوگا بلکہ اپنی خواہش کو اپنا رہنما بنالے گا۔ اپنے مفاد یا اپنی انا کے لیے ظالمانہ طریقہ اختیار کرنے میں اسے کوئی باک نہ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page