اہل جنت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۶
اہل جنت
قرآن (الحج ۲۳-۲۴) میں ارشاد ہوا ہے کہ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔ اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہوگی۔ اور ان کو پاکیزہ قول کی ہدایت بخشی گئی تھی۔ اور ان کو خدائے الحمید کا راستہ دکھایا گیا تھا وَهُدُوا الی الطیب من القول وَهُدُوا الى صراط الحمید)
آیت کے آخری ٹکڑے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی جنت کن لوگوں کو دی جائے گی۔ یہ ان لوگوں کو دی جائے گی جن کو دنیا میں قول طیب کی توفیق ملی تھی اور جن کو اس خدا کے راستہ کی ہدایت دی گئی تھی جس کی صفت حمید ہے، جو تمام اعلیٰ خوبیوں کا مجموعہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں وہ کون سا امتحان ہے جس میں آدمی کو پورا اترنا ہے، اور وہ کیا صفت ہے جس کا ثبوت دینے کے بعد اس کو یہ اعزاز ملے گا کہ اس کے اوپر ابدی جنتوں کے دروازے کھولے جائیں۔ یہ امتحان دو لفظ میں یہ ہے ــــــــ حق کو پہچان کر اس کا اعتراف کرنا، اور ناموافق حالات کے باوجود اپنے آپ کو حق کے راستہ پر ڈالنا۔
جس دنیا میں ہر طرف پر فریب الفاظ کا جال بچھا ہوا ہو۔ جہاں حق سے پھرے ہوئے لوگ غلبہ حاصل کیے ہوئے ہوں۔ ایسے ماحول میں ایمان کی صداقت کو پہچاننا بلاشبہ سخت مشکل کام ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ مشکل کام یہ ہے کہ ایمان کے اس راستہ پر عملاً اپنے آپ کو ڈال دیا جائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اقوال کے پرشور ہنگاموں میں قول طیب کو پانے کی توفیق ملی۔ جنہوں نے راستوں کے ہجوم میں صراط حمید کو دیکھا اور اس کو پہچان لیا۔ جو لوگ دنیا میں اس عظیم لیاقت کا ثبوت دیں وہ انسانیت کے سب سے زیادہ قیمتی لوگ ہیں۔ وہ اس قابل ہیں کہ انھیں جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے ۔ ان کے ساتھ وہ خصوصی معاملہ کیا جائے جو شاہی مہمانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues