Al-Risala · April 1993 · page 9

فطرت پر

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۹

فطرت پر

زیقت دماء من بطنين من قريش قبیلہ قریش کے دو خاندانوں میں خون بہانے کا فجمع ابو سفیان كبارهم وقال واقعہ ہوا۔ ابو سفیان نے ان کے بڑوں کو جمع کیا هل لكم يا معشر قريش في الحق اور کہا کہ اے قریش کے لوگو، تم خون کا بدلہ لینا او ما هو افضل منه ۔ فقال القوم۔ چاہتے ہو یا وہ جو اس سے بہتر ہے۔ لوگوں نے وهل من شيئ افضل من الحق۔ کہا، کیا کوئی چیز ہے جو اس سے بھی بہتر ہو۔ فقال ابوسفيان ۔ نعم إنه العفو ابو سفیان نے کہا ہاں۔ اس سے بہتر چیز معافی ہے۔ فقام القوم وتصالحوا ۔ پس لوگ اٹھے اور آپس میں صلح کرلی۔

یہ واقعہ اس انسان کے مزاج کو بتاتا ہے جو اپنی فطرت پر قائم ہو۔ قدیم عرب کے لوگ اسی فطری حالت پر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اکثریت نے بھر پور طور پر اسلام کو قبول کر لیا ، اور جب ایک بار اسلام کو قبول کر لیا تو پھر اس سے انحراف کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہا۔ جو آدمی اپنی فطرت پر قائم ہو وہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے کہ اس کے سامنے جب کوئی سیدھی اور صحیح بات آتی ہے تو وہ فوراً اس کو مان لیتا ہے۔ وہ ان نفسیاتی پیچیدگیوں سے خالی ہوتا ہے جو لوگوں کے لیے سچائی کو ماننے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ فطرت پر قائم رہنے والا آدمی ضد، انتقام ، انانیت ، بے اعتراضی جیسے جذبات سے خالی ہوتا ہے۔ وہ ایک وسیع القلب اور وسیع الظرف انسان ہوتا ہے۔ وہ دہرے انداز سے سوچنا نہیں جانتا۔ وہ نفرت اور بدگمانی کے تحت فیصلہ نہیں کرتا بلکہ جو فیصلہ کرتا ہے خالی الذہن ہو کر کرتا ہے۔ وہ اس بیماری سے خالی ہوتا ہے کہ کسی چیز کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنالے اور پھر کسی حال میں اس سے ہٹنے کے لیے تیار نہ ہو۔ ایسے انسان کے شر سے بچنے کی واحد تدبیر اعراض ہے۔ یعنی اپنے آپ کو اس کی زد میں اسے بچانا۔

فطرت پر قائم رہنا خدا کے نقشہ پر قائم رہنا ہے۔ اور جو آدمی فطرت پر قائم ہو اس کو کمال انسانیت کی منزل تک پہنچنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page