Al-Risala · April 1993 · page 10

انسان کا مسئلہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۱۰

انسان کا مسئلہ

برٹرینڈ رسل نے انسانی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمارے باہر فطرت کی جو طاقتیں ہیں ان کو سمجھنے اور قابو پانے کے معاملہ میں ہم نے دہشت ناک حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے مگر خود اپنے اندر کی طاقتوں پر قابو پانے کا فن ہم نے ابھی تک نہیں سیکھا : یہ فرق کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت کے اندر کوئی ذاتی ارادہ نہیں۔ انسان جب فطرت کی طاقتوں پر قابو پانا چاہتا ہے تو ان کی طرف سے کوئی مزاحمت پیش نہیں آتی۔ انسان فطرت کو سمجھ کر اس کو جو رخ دے دیتا ہے وہ عین اسی رخ پر قائم ہو جاتی ہے۔ فطرت کے قانون کو ماننے کے بعد انسان کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر اس کو اپنا تابع بنا سکے۔ اس کے برعکس انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ خود اپنا ذاتی ارادہ رکھتا ہے۔ انسان قبول کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے اور اسی کے ساتھ رد کرنے کی طاقت بھی۔ فطرت کا معاملہ اگر ایک طرفہ تھا تو انسان کا معاملہ دو طرفہ ہے۔ انسان کے اوپر کوئی اسکیم صرف اس وقت نافذ کی جاسکتی ہے جب کہ وہ خود بھی اس کو اپنے اوپر نافذ کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے۔

انسان پر قابو پانے کا معاملہ کسی خارجی فن کا معاملہ نہیں۔ یہ خود انسان کے ذاتی فیصلہ کا معاملہ ہے۔ یہ انسان کے اپنے شعوری فیصلہ کے تحت ہوگا نہ کہ کسی خارجی تکنیک کے ذریعہ سے۔ انسان اپنے ارادہ کو کیوں غلط راہوں میں استعمال کرتا ہے ، اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے کو آزاد اور خود مختار سمجھ لیتا ہے۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں اپنا مالک آپ ہوں۔ میں جو چاہوں کروں۔ یہی اصل غلطی ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کیے بغیر انسان کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ انسان اپنے خالق کے سامنے جواب دہ ہے۔ جواب دہی کا یہ احساس ہی سرکشی اور بے راہ روی کا اصل چیک ہے۔ اس کے سوا انسانی اصلاح کا اور کوئی طریقہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page