Al-Risala · April 1993 · page 15

سب سے بڑی بدبختی

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۱۵

حالت میں وہ شخص کتنا زیادہ بد بخت ہوگا جو اس ہستی کو دیکھنے سے محروم رہے جو ہر قسم کے جمال و کمال کا منبع اور سر چشمہ ہے ۔ امام احمد، امام مسلم اور دوسرے محدثین نے روایت کیا ہے : قال ، اذا دخل اهل الجنة الجنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنت قال : اذا دخل اهل الجنة الجنة واهل النار النار نادی مناد :

يا اهل الجنة إن لكم عند الله موعداً يريد ان ينجزكموه۔

فيقولون - وماهو - الم يثقل موازيننا، الم يبيض وجوهنا، ويدخلنا الجنة ويجرنا من النار - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہو چکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اے اہل جنت، تمہارے لیے اللہ کا ایک وعدہ ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کو تمہارے لیے پورا کرے۔ اہل جنت کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کر دیے قال ۔ فيكشف لهم الحجاب فينظرون اليه ۔ فوالله ما اعطا هم الله شيئاً احب اليهم گئے ۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا گیا۔ اور اللہ نے ہم کو جنت میں داخل کر دیا اور ہم کو آگ سے بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے پردہ کھول دیا جائے گا، پھر وہ اپنے رب من السفر اليه ولا أراد أن يفهم (تفسیر ابن کثیر (۴۱۴/۲)

سے پردہ ہٹا دیا جاتا ہے۔ پردہ اُٹھ جانے کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم، کوئی نعمت جو اللہ نے انھیں دی ہے وہ ان کے لیے اللہ کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے والی۔ آخرت میں دیدار الٰہی کی نعمت بلاشبہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ کو دیکھنا ایک ایسا اعلیٰ وارفع تجربہ ہے جس کے مثل کوئی دوسرا تجربہ نہیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو آخرت میں اس نعمت کبریٰ سے سرفراز کیے جائیں۔ اور کتنے بدبخت ہیں وہ لوگ جو آخرت میں اس حال میں پہنچیں کہ وہاں انھیں یہ خبر ملے کہ دیدار الٰہی کی نعمت سے بہرہ مند ہونا ان کے لیے مقدر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page