سب سے بڑی بدبختی
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۱۴
سب سے بڑی بدبختی
الاستاذ خوزی الرفاعی ( حلب ، سوریا ) ایک سفر کے تحت اندلس گئے۔ وہاں انہوں نے غرناطہ میں الحمراء نامی محل دیکھا جو مسلم دور حکومت میں نہایت اہتمام کے ساتھ بنایا گیا تھا۔ اپنے سفرنامہ میں انہوں نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے : هناك قصة منقوشة على الجدار - (تروى ان سائحا مكسيكيا يدعى (آرى ايكاسا) جاء وزوجته لزيارة الحمراء وبينما كان يطوف مستغرقا في دهشته ممايرى من مفاتن، رأى سائلا ااعمى يتقدم من زوجته يطلب صدقة فقال لزوجته :
اجزلى له العطاء يا امرأة فانه ليس في الحياة اقسى من ان يكون المرء اعمى في غرناطة (الدراسات الاسلامية، اسلام آباد، ۱۴۱۴ھ، صفحہ ۴۴۲)
وہاں ایک دیوار پر ایک قصہ لکھا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ میکسیکو کا ایک سیاح جس کا نام آری ایکاسا تھا، وہ اپنی بیوی کے ساتھ الحمر اکو دیکھنے کے لیے یہاں آیا۔ اور جب کہ وہ اس کی کشش سے غیر معمولی متاثر ہو کر اس کو دیکھنے میں محو تھا، اس نے ایک اندھے فقیر کو دیکھا جو اس کی بیوی کے قریب ہو کر اس سے صدقہ مانگ رہا تھا۔ سیاح نے اپنی بیوی سے کہا کہ اے خاتون، اس کو خوب زیادہ دے دو۔ کیوں کہ دنیا میں اس سے بڑی بدبختی اور کوئی نہیں کہ آدمی غرناطہ میں اندھا ہو۔ سختی کی ایک افتاد کہ ایک شخص الحمر ا کے اس امنہ مذکورہ سیاح کو یہ بات سب سے زیادہ بد بختی کی بات نظر آئی کہ ایک شخص الحمراء کے سامنے کھڑا ہو مگر وہ آنکھوں سے محروم ہونے کی بنا پر اس خوب صورت محل کو نہ دیکھ سکے۔ مگر ایک اور بدبختی ہے جو اس قسم کی تمام بدبختیوں سے زیادہ سخت ہے۔ اور یہ بدبختی وہ ہے جو آخرت میں پیش آئے گی۔ اس بدبختی کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح کیا گیا ہے : ومَن كان فى هذه | عمى فهو فى الآخرة اعمى واضل سبيلا (الاسراء، ۷۲)
اور جو شخص اِس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور وہ بہت دور پڑا ہو گا راستہ سے ۔ آخرت وہ عالم ہے جہاں اللہ رب العالمین اپنے تمام جمال و کمال کے ساتھ ظہور فرمائے گا۔ وہاں آدمی رب کائنات کو اسی طرح دیکھے گا جس طرح وہ موجودہ دنیا میں بدر کے چاند کو دیکھتا ہے۔ ایسی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues