Al-Risala · April 1993 · page 17

آیت فتنہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۱۷

بالواسطہ پہلو۔ براہ راست پہلو یہ تھا کہ عرب اور اطراف عرب میں اہلِ شرک کا زور توڑ کر کامل طور پر مذہبی جبر کا خاتمہ کر دیا جائے۔ یہ کام رسول اور اصحابِ رسول کی زندگی ہی میں پوری طرح انجام پا گیا۔

اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ تاریخ میں وہ عمل (process) جاری کر دیا جائے جس کے اثر سے بالآخر ساری دنیا سے ہمیشہ کے لیے مذہبی جبر کا مکمل خاتمہ ہو جائے۔ ابتدائی انقلاب کے نتیجہ میں یہ تاریخی عمل بھی پوری طاقت کے ساتھ جاری ہوا۔ وہ مکہ، مدینہ، دمشق، بغداد، اسپین سے ہٹتا ہوا، یورپ میں اور پھر امریکہ میں داخل ہو گیا۔

یہ عمل ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں شروع ہوا۔ اور بیسویں صدی عیسوی میں مغربی دنیا میں اس کی تکمیل ہوئی۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۸ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا کی تمام قوموں نے انسانی آزادی کے اس دستاویز پر دستخط کر دیے جس کو حقوقِ انسانی کا عالمی منشور کہا جاتا ہے۔

اس طرح ختم فتنہ کے لیے قتال کا جو حکم دیا گیا تھا وہ اپنی آخری صورت میں اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔ اب ہمیں یہ نہیں کرنا ہے کہ کسی صورت حال کو بطور خود ”فتنہ“ قرار دیں اور مذکورہ قرآنی آیت کا حوالہ دے کر اس کے خلاف جنگ شروع کر دیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سرکش قرار دیے جائیں گے نہ کہ قرآنی حکم کی تعمیل کرنے والے۔

صحیح البخاری (کتاب التفسیر) میں مذکورہ دونوں آیتوں کی تشریح میں پانچ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلی صدی ہجری میں جب عبداللہ بن زبیر اور عبدالملک بن مروان کے گورنر الحجاج کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو عبداللہ بن عمرؓ مکہ میں موجود تھے۔ مگر انہوں نے اس جنگ میں شرکت نہ کی۔ ابن زبیر کے حامیوں میں سے دو شخص ان کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ نے فتنہ کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے، اور ہم یہ جنگ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں پھر آپ ہمارے ساتھ اس میں شریک کیوں نہیں ہوتے۔

عبداللہ بن عمرؓ نے جواب دیا کہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے قرآنی حکم کی تعمیل تو ہم زمانۂ رسالت میں کر چکے (قد قعدنا) اس زمانہ میں اہلِ اسلام کمزور تھے۔ چنانچہ اہلِ شرک ان کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page