Al-Risala · April 1993 · page 18

آیت فتنہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۱۸

دین کی بنیہ پر انہیں ستاتے تھے۔ اس وقت ان کا زور توڑنے کے لیے جنگ کی گئی۔ یہاں تک کہ اہل اسلام کی کثرت ہو گئی اور اہل شرک کا وہ فتنہ باقی نہ رہا۔ انھوں نے مزید فرمایا : قاتلنا حتى لم تكن فتنة وكان ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہا . الدين لله وانتم تريدون اور دین اللہ کے لیے ہو گیا۔ اور تم چاہتے أن تقاتلوا حتى تكون فتنة ہو کہ جنگ کرو، یہاں تک کہ پھر فتنہ آ جائے ويكون الدين لغير الله ۔ اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جو لوگ آئے تھے وہ بنو امیہ کے سیاسیی بگاڑ کے خلاف ان سے جنگ کر رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ کے حکمرانوں میں جو بگاڑ آیا ہے وہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ”فتنہ“ کہا گیا ہے۔ اس لیے ان پر فرض کہ وہ ان حکمرانوں سے جنگ کر کے اس کا خاتمہ کریں۔

مگر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے آیت کی جو تشریح کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس آیت کا تعلق فتنہ سیاست سے نہیں ہے بلکہ فتنہ جبر سے ہے۔ اس سے مراد حکمرا نوں کی سیاس اصلاح کی خاطر ان سے جنگ نہیں ہے، بلکہ مذہبی جبر کی صورت حال کو ختم کرنے کے لیے جنگ کر ہے۔ یہ جنگ اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب کہ مذہبی جبر ختم ہو کر مذہبی آزادی کا ماحول قائم ہو جائے۔ نیز صحابی رسول کی اس تشریح سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مذہبی جبر سے مراد نفاذ قانون کی رکاوٹ نہیں ہے بلکہ توحید پر عقیدہ اور توحید کی تبلیغ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اگر کو مسلم حکمران قانون اسلامی کا نفاذ نہ کر رہا ہو، اور کچھ لوگ قانون اسلامی کے نفاذ کے نام : حکمراں سے ٹکراؤ کریں۔ اور حکمر اں ایسے لوگوں پر سختی کرے تو یہ وہ مذہبی جبر نہ ہوگا جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بہت بامعنی ہے کہ ہم نے جنگ کر کے فتنہ کو ختم کر د تھا۔ مگر اب تم لوگ ایسی جنگ چھیڑ رہے ہو جس کے نتیجہ میں فتنہ کی حالت دوبارہ لوٹ آئے یعنی تم نے مسلم حکمرانوں کی سیاسی اصلاح کے نام پر ان سے لڑائی شروع کی ہے ، اور ا تاثر دے رہے ہو کہ یہی اسلام ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ حکمران اسلام کے نام پر اٹھنے وا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page