مسجد اور مسلمان
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۵
میں ایک نیا دور شروع ہو جائے گا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات اچھے ہو جائیں گے۔ ملک میں امن قائم ہوگا۔ خوف اور تشدد کی فضا ختم ہو جائے گی جو دیش کی ترقی کے راستے میں مستقل رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
دوسری بات جو میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ مسجد اور مسلمان کا فرق ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے الگ ہیں اور ان میں نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ مسجد کا حکم شریعت میں کیا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ مسجد سے متعلق مسلمانوں کے رویہ کے بارہ میں شرعی حکم کیا ہے۔ ایک مسئلہ کا تعلق مسجد کی اپنی حیثیت سے ہے۔ دوسرے مسئلہ کا تعلق مسجد کے بارہ میں مسلمانوں کی ذمہ داری سے۔
یہ دونوں باتیں مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ شریعت کے اعتبار سے جو مسجد کی پوزیشن ہے وہی اس معاملہ میں مسلمانوں کی ذمہ داری بھی ہے۔ یا مسلمانوں کی جو ذمہ داری ہے وہی خود مسجد کی اپنی پوزیشن بھی ہے۔
فرق کے اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اس وقت قرآن میں جو آیت اتری وہ یہ نہیں تھی کہ طھر الكعبة (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو) بلکہ یہ کہا گیا کہ وثيابك فطهر (اپنے کپڑے کو پاک کر۔ یعنی اخلاق کو درست کرو) کی دور میں اسی قسم کی آیتیں اترتی رہیں۔ ان آیتوں کا تعلق اس مسئلہ سے نہیں تھا کہ کعبہ کے اندر بت رکھنے کا شرعی حکم کیا ہے۔ بلکہ ان کا تعلق صرف اس مسئلہ سے تھا کہ جیسے حالات میں مسلمانوں کی اپنی ذمہ داری کیا ہے۔ اس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے اب بابری مسجد کے معاملہ میں غور کیجئے ۔ جہاں تک نفس مسجد کا تعلق ہے، اس کے بارہ میں متفقہ طور پر شریعت کا حکم یہ ہے کہ جس جگہ جائز طور پر ایک مسجد بنا دی جائے وہ جگہ ہمیشہ کے لیے مسجد کی جگہ ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کو اس میں تبدیلی کا کوئی حق نہیں رہتا۔ دوسرا پہلو یہ کہ کسی مسجد کے ساتھ اگر اس قسم کے واقعات پیش آئیں جیسے واقعات اجودھیا میں پیش آئے ہیں تو ایسی صورت میں مسلمانوں کی اپنی ذمہ داری کیا ہے۔ ایسے معاملہ میں ایک صورت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب کی طرح مسلمان یہ کہہ کر اس سے الگ