Al-Risala · May 1993 · page 6

مسجد اور مسلمان

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۶

ہو جائیں کہ مسجد خدا کی چیز ہے ، وہی جس طرح چاہے گا اس کی حفاظت کرے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مسلمان خاموش نہ رہیں بلکہ وہ مسجد کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ۔ اگر مسلمان ایسا کریں تو ان کے اس عمل کی بھی ایک حد ہوگی ۔ ایک حد تک جانے کے بعد انھیں دوبارہ اس معاملہ میں چپ ہو جانا پڑے گا ۔ یہ حد قرآن کی اس آیت میں بتائی گئی ہے کہ: لا يكلف اللہ نفساً الا وسعها (البقره ۲۸۶) اللہ کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت کے مطابق ۔ یعنی کسی مومن فرد یا کسی مومن گروہ کے بس میں جتنا کچھ ہو، صرف اتنے ہی کے لیے وہ مکلف ہے۔ اپنے بس سے باہر کی ذمہ داری کسی مسلم فرد یا کسی مسلم گروہ کے اوپر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد کا حکم بتانے کے لیے تو یہ کہنا صحیح ہے کہ مسجد جس جگہ جائز طور پر بنا دی جائے وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہو جاتی ہے ۔ مگر مسجد کے تئیں مسلمانوں کی ذمہ داری کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ۔ جب سوال یہ ہو کہ کسی مسجد کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہے تو وہاں مذکورہ مسئلہ بیان کرنا اصل سوال کا صحیح جواب نہ ہوگا۔ اس دوسری صورت میں مسلمانوں کی اپنی حالت ان کے لیے شرعی حکم کا فیصلہ کرے گی نہ کہ نظری اعتبار سے مسجد کی شرعی حیثیت ۔

اس شرعی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے بابری مسجد اور مسلمان کے مسئلہ پر غور کیجیے! تو معلوم ہوگا کہ اب اس معاملہ میں مسلمانوں کی کوئی شرعی ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر ان کے اوپر بابری مسجد کے تحفظ کی ذمہ داری تھی تو اس ذمہ داری کو وہ قربانی کی حد تک جا کر ادا کر چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ بابری مسجد کو بچانا چاہا مگر وہ اس کو نہ بچا سکے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ۶ دسمبر کو اس معاملہ میں مسلمانوں کی ذمہ داری کی آخری حد آچکی ہے ۔ اب وہ شریعت کی رو سے بالکل حق بجانب ہیں کہ اس معاملہ سے اپنے آپ کو الگ کر کے اس کو مستقبل کے حالات کے حوالے کر دیں۔

۶ دسمبر کے حادثہ کے بعد اس معاملہ میں نوعی اور بنیادی تبدیلی ہوئی ہے ۔ وہ یہ کہ اب مسئلہ بابری مسجد کے تحفظ کا نہیں ہے ۔ اب اصل مسئلہ خود مسلمانان ہند کے تحفظ کا ہے۔ اب اگر مسلمان اپنی اس احتجاجی تحریک کو مزید جاری رکھیں جو اس اشو پر وہ ۶ دسمبر سے پہلے چلا رہے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page