Al-Risala · May 1993 · page 12

ایودھیا کا مسئلہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۲

ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اگر ہم نے سیکولرزم کا راستہ چھوڑ دیا :

The country will go to pieces if we leave the path of secularism. یہ بات بالکل درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں صرف سیکولر آئیڈیالوجی ہی نیشنل آئیڈیالوجی بن سکتی ہے۔ دوسری ہر آئیڈیالوجی محدود آئیڈیالوجی ہوگی۔ اور کوئی محدود آئیڈیالوجی کبھی نیشنل آئیڈیالوجی کا بدل نہیں بن سکتی۔

انڈیا میں اگر چہ ۸۵ فی صد لوگ سیکولر آئیڈیالوجی میں یقین رکھتے ہیں۔ مگر ۶ دسمبر کے واقعے نے جو ذہنی انتشار پیدا کیا ہے اس کے بعد تمام لوگ یہ محسوس کر رہے ہیں گویا کہ وہ کسی بند گلی میں آکر پھنس گئے ہیں جس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ میرا تین نکاتی فارمولا قوم کو اسی بند گلی سے نکالنے کی ایک کوشش ہے۔ تین نکاتی فارمولا خود کوئی منزل نہیں ہے البتہ وہ موجودہ بند گلی سے نکلنے کی طرف ایک واضح اور متعین آغاز ہے۔ اس فارمولے کو مان لینے کے بعد پھر سے ہمارے لیے وہ راستہ کھل جاتا ہے جس کی روشنی میں ہم دوبارہ تعمیر و ترقی کی طرف اپنا سفر جاری کر سکیں ۔ یہ فارمولا مختصر طور پر یہ ہے : مسلمان بابری مسجد کے بارے میں اپنا ایجی ٹیشن مکمل طور پر ختم کر دیں۔ ہندو اپنے مندر۔ مسجد اندولن کو اجودھیا ہی میں ہمیشہ کے لیے اسٹاپ کر دیں۔ گورنمنٹ عبادت گاہوں کے تحفظ ایکٹ ۱۹۹۱ کو دستور ہند کا جزو بنا دے۔ یہ تین نکاتی فارمولا اعترافِ حقیقت کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اب ہندو اور مسلمان دونوں کے لیے انتخاب اس اسٹرکچر اور اُس اسٹرکچر میں نہیں رہ گیا ہے، بلکہ اسٹرکچر اور تباہی میں رہ گیا ہے۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں ہی تاریخ میں تبدیلی کا ذہن ترک کر دیں اور اس معاملہ میں ہمیشہ کے لیے حالت موجودہ (status quo) کو قبول کرنے پر راضی ہو جائیں۔

عبادت گاہوں کا تحفظ ایکٹ ۱۹۹۱ عین اسی اصول پر بنایا گیا تھا۔ فارمولا یہ کہتا ہے کہ گورنمنٹ اس ایکٹ کے مدعا کو دستور ہند میں بنیادی شہری حقوق کی حیثیت سے شامل کر دے تاکہ وہ اس معاملہ میں طرفین کے لیے زیادہ پائدار قانونی ضمانت بن جائے۔ ۱۲ ال رسالمئی ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page