Al-Risala · May 1993 · page 11

ایودھیا کا مسئلہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۱

مطلب سادہ طور پر یہ ہے کہ اسٹیٹ کا نظام مشترک ادبی مقاصد کی بنیاد پر چلایا جائے۔ اور غیر مشترک امور میں ریاست عدم مداخل (non-interference) کی پالیسی اختیار کرے ۔ انڈیا ایک پلورل سوسائٹی ہے۔ اس لیے انڈیا کے لیے سیکولرزم ہی واحد درست آئیڈیالوجی ہے۔ اس ملک میں سیکولر آئیڈیالوجی ہی نیشنل آئیڈیالوجی بن سکتی ہے۔ دوسری جو بھی آئیڈیالوجی اختیار کی جائے گی وہ ریجنل آئیڈیالوجی یا سیکٹیرین آئیڈیالوجی ہوگی۔ اور ایسی کوئی آئیڈیالوجی کبھی عمومی سطح پر قابل قبول نہیں بن سکتی۔

سیکولر آئیڈیالوجی کے سوا جو آئیڈیالوجی بھی اختیار کی جائے گی وہ اپنی عین نیچر کے اعتبار کے اسی تشدد دازہ نوبت تک پہنچے گی جس کی ایک مثال ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو سامنے آئی ہے۔ تشدد کا مقصد موقف کی کمزوری کی تلافی ہوتا ہے۔ اصولی تائید کی کمی کو آدمی طاقت کے ذریعہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ اس سے تشدد ظہور میں آتا ہے۔

۶ دسمبر نے یہ ثابت کیا ہے کہ سیکولر آئیڈیالوجی کے سوا جو آئیڈیالوجی بھی یہاں اپنائی جائے گی وہ اپنی محدود اپیل کی بنا پر آخر کار تشدد کا سہارا لے گی۔ اس طرح وہ باعتبار نتیجہ دیش کی شانتی کو بھنگ کرنے کا ذریعہ بن جائے گی۔ یہ صرف سیکولر آئیڈیالوجی ہے جو اپنی وسیع اپیل کی بنا پر دیش میں شانتی کا سماج بنا سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ جنھوں نے ۶ دسمبر سے پہلے مندر مسجد تحریک کا ساتھ دیا تھا، وہ اس کا نتیجہ دیکھ لینے کے بعد اب اس سے براءت ظاہر کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بنارس کے بیوپار منڈل اور لکھنؤ کے بیوپار منڈل نے پرزور طور پر کہا ہے کہ مذہب اور عقیدہ کے معاملہ کو سیاست سے باہر رکھنا چاہیے، حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس تحریک کے مددگار بنے ہوئے تھے۔

سابق وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ انڈیا یا تو سیکولر انڈیا سے طور پر باقی رہے گا یا وہ سرے سے باقی ہی نہ رہے گا :

India will survive as a secular India or not at all. یہی بات موجودہ وزیر اعظم مسز ڈی وی نرسمہا راؤ نے ان لفظوں میں کہی کہ ہمارا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page