ایودھیا کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۴
اس کے علاوہ مختلف مقامات سے ہمیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ لوگ بڑی تعداد میں اس فارمولے سے اتفاق کر رہے ہیں۔ اس سلسلے کا ایک خط یہ ہے: یہ اصل خط ہندی میں ہے، یہاں اس کو اردو رسم خط میں نقل کیا جاتا ہے :
"بعد سلام کے آپ کی نئی زمین سمواد داتا سے بات چیت "نئی زمین" ۲۱ فروری سے ۲۷ فروری ۱۹۹۲ اخبار میں پڑھی۔ آپ کے تئیں سو تزی نام مولا کے بارے میں جانکاری ملی۔ میں اس کا سمر تھن کرتا ہوں۔ یہاں ناگہ امیں میں نے ناگدا، جنت اسے موکھک سروسے کیا۔ لگ بھگ سبھی لوگوں نے سمرتھن کیا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ تین سو تری فارمولے پر ہستا کچھ ابھیمان دیش بھر میں کرائیں۔ جس سے لوگوں کی رائے کا پتہ چلے۔ اگر آپ ہستا کچھ ابھیمان شروع کر چکے ہیں تو ہمیں بھی جانکاری دیویں کہ ہمیں کیا کرنا ہوگا۔ آج دیش بھر میں جو سامپر دالک اُناد پھیل رہا ہے اس میں آپ کا فارمولا جیون رکشک گھول کا کام کرے گا" (۲۶ - ۲ - ۱۹۹۳)
شجاع الدین اگوان۔ پتر کار - ۱۰۱ جنم جے مارگ ۔ ناگدا ۴۵۶۳۲۵ مسٹر کلدیپ نائر کا ایک مضمون ناگپور کے انگریزی روزنامہ ہیتا وادا (The Hitavada) کے شمارہ ۱۷ مارچ ۱۹۹۳ میں شائع ہوا ہے، یہ مضمون اجودھیا کے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ پچھلے دو مہینوں میں میں پورے ملک میں گھوما ہوں، اور میں اس تاثر کے ساتھ واپس آیا ہوں کہ مسلمان اس کے لیے راضی ہو جائیں گے کہ وہ بابری مسجد سے اپنا دعویٰ واپس لے لیں، بشرطیکہ اس کے بعد کسی اور مذہبی عمارت کے لیے مزید مانگ نہ کی جائے : I have gone round the country in the last two months and I have come back with the impression that the Muslims may be willing to withdraw their claim on the Babri Masjid provided there are no further demands on other religious buildings. (p.8).