Al-Risala · May 1993 · page 15

اجودھیا اور اس کے بعد

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۵

اجودھیا اور اس کے بعد

اجودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ آج پوری ملت اسلامیہ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ اس مسجد کے ڈھانچہ میں پتھروں کی جتنی تعداد ہوگی، اس سے بھی زیادہ تعداد میں مسلمان ملک کے مختلف حصوں میں اب تک مارے جا چکے ہیں یا وہ ہلاکت اور رسوائی کا یہ سلسلہ بقاہر لا متناہی طور پر جاری ہے۔

یہ مسجد بابر کے گورنر میر باقی نے ۱۵۲۸ء میں اجودھیا میں تعمیر کی تھی۔ بعد کو اس کے سلسلہ میں کچھ نزاع پیدا ہوئی ۔ تاہم ابتداً اس کی حیثیت ایک معمولی مقامی مسئلہ کی تھی۔ آزادی کے بعد ۱۴ نومبر ۱۹۴۹ء کی رات کو کچھ مقامی ہندوؤں نے مسجد کے اندر تین مورتیاں رکھ دیں۔ لیکن اب بھی اس نے خطر ناک مبار کی صورت اختیار نہیں کی۔ کیوں کہ عدالت کے حکم کے تحت جلد ہی مسجد کے دروازہ پر تالا لگا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد یکم فروری ۱۹۸۶ء کو یہ واقعہ پیش آیا کہ انتظامی ذمہ داروں نے مسجد کا تالا کھول دیا اور مقامی ہندوؤں کو مورتیوں کے درشن اور پوجا کے لیے اندر جانے کی اجازت دے دی۔ بہر حال اب کے مسئلہ نے نیا رخ اختیار کر لیا۔

اب کچھ مسلم لیڈروں نے بابری مسجد کے نام پر دھواں دھار تحریک شروع کر دی۔ دوسری طرف کچھ ہندو لیڈروں نے رام مندر کا اشو لے کر شدید تر انداز میں اپنا اندولن جاری کر دیا۔ دونوں طرف سے یہ تحریکیں چلتی رہیں۔ یہاں تک کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو یہ حادثہ پیش آیا کہ ہندو انتہا پسند بڑی تعداد میں اجودھیا میں جمع ہوئے اور انھوں نے بابری مسجد کو ڈھاکے کھیل طور پر اسے ختم کر دیا اور اس کی جگہ ایک عارضی مندر بنا دیا۔

اس واقعہ کے بعد پورے ملک کا ضمیر چیخ اٹھا ہے ملک کے تمام باشعور لوگوں نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ بابری مسجد کو اس طرح ڈھانا دستور، قانون، عدالتی فیصلہ، مذہبی اور اخلاقی روایات اور خود رام مندر تحریک کے لیڈروں کے اپنے اعلانات کے خلاف تھا یا ایک پہلے وہ سادہ طور پر ایک عمارت کو ڈھانے کا واقعہ نہ رہا، بلکہ وہ پوری ایک تاریخ کو ڈھانے کا واقعہ بن گیا ہے۔

۱۵ الرحمن مئی ۱۹۹۳ء

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page