Al-Risala · May 1993 · page 22

فرنٹ لائن کا جائزہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۲

کوڑ ھادیا۔ اس سلسلہ میں مختلف رپورٹیں اخباروں میں آتی رہی ہیں۔ مثلاً ۶ دسمبر کے بعد دیش میں جو گڑ بڑ ہوئی، اس کی وجہ سے صرف دسمبر ۱۹۹۲ اور جنوری ۱۹۹۳ میں گورنمنٹ کے کسٹم اور اکسائز ڈیوٹی کی وصولیابی میں ۲۵۰۰ کروڑ رو پے کی کمی واقع ہوئی۔ فسادات کے نتیجہ میں اکثر بڑے شہروں میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر جو نقصان ہوا، اس کی مقدار اربوں روپیہ تک جاتی ہے۔ باہر کے انوسٹ منٹ میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ۔ حتیٰ کہ متعدد بیرونی تجارتی ادارے اپنا کاروبار بند کر کے ہندوستان سے واپس چلے گئے۔

ٹائمس آف انڈیا (۸ فروری ۱۹۹۳) نے اس سلسلہ میں ایک جامع سروے شائع کیا ہے جس کو اگلے صفحات میں نقل کیا جارہا ہے۔ اس کے مطابق ، ملک بھر کا تجارتی طبقہ مندر ۔ مسجد سیاست سے گھبرا اٹھا ہے۔ کیوں کہ اس کا اقتصادی نقصان ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہے۔ صرف بمبئی کے فسادات میں جو نقصان ہوا، اس کا اندازہ تقریباً دو ہزار کروڑ روپے ۔ احمد آباد اور سورت میں یہ نقصان تین ہزار کروڑ روپیہ تک پہنچ گیا۔ یہ مقدار بھی براہ راست نقصان کی ہے۔ بالواسطہ نقصان اس اندازہ میں شامل نہیں ۔

جے پور میں فرقہ وارانہ فساد کی صورت میں دو ہزار کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا۔ راج کوٹ میونسپل کارپوریشن میں ہر روز پانچ لاکھ روپیہ جنگی کی رقم آتی تھی۔ مگر دسمبر میں ۵۰۶ ہزار روپیہ روزانہ تک گرگئی۔ لکھنؤ کے تاجروں کو اس دوران پانچ سو کروڑ روپیہ کا نقصان پہنچا۔ اتر پردیش کے تاجروں کا خیال ہے کہ ریاست کی اقتصادیات دس سال پیچھے چلی گئی ہے۔ وغیرہ۔ ہندو۔ ہند مسئلہ اس سلسلہ میں کاشی بیوپار منڈل کا فیصلہ قابل ذکر ہے جو بتاتا ہے کہ اجودھیا کے تجربہ کو بنارس میں دہرانا اپنے اندر ایک سنگین خطرہ لیے ہوئے ہے۔ یہ ہند و مسلم مسئلہ میں مزید اضافہ کرکے اس کو ہندو ہند مسئلہ بنا دینے کے ہم معنی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ خود ہندوؤں کا تاجر طبقہ مبینہ طور پر اس کے خلاف ہوگیا ہے۔

اس سلسلہ میں مسٹر ویویک بھارتی (Vivek Bharati) کا مضمون (شائع شدہ ٹائمس آف انڈیا ۶ جنوری ۱۹۹۳) اس تحریک کے علم برداروں کے لیے ایک چیتا ونی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا ۲۲ لرسال ملی ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page