Al-Risala · May 1993 · page 21

فرنٹ لائن کا جائزہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۱

انھوں نے لکھا ہے کہ ہند تو کے علم بردار یہ کہتے ہیں کہ گیان واپی مسجد جو کہ کاشی وشو ناتھ مندر کے پاس ہے، اس کو ایک مندر کو توڑ کر بنایا گیا تھا۔ مگر اس دعوے کے حق میں ان کے پاس کوئی واضح ثبوت (clear proof) موجود نہیں۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں مہنت لوگوں کے بیانات بھی یکساں نہیں۔ مختلف مہنت مختلف بات کہتے ہیں۔ مثلاً پنڈت رام شنکر تر پاٹھی کہتے ہیں کہ اصل مندر رضیہ بیگم کی مسجد کی جگہ تھا۔ جو کہ گیان واپی مسجد سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ پنڈت کیلاش پتی تیواری گیان واپی مسجد ہی کو قدیم مندر کا اصل مقام بتاتے ہیں، مگر ان کے پاس اس کا کوئی تاریخی ریکارڈ نہیں۔ کچھ اور مہنت یہ کہتے ہیں کہ اصل وشو ناتھ مندر ر و شیشور گنج میں تھا۔ یہ مقام بھی گیان واپی مسجد سے دو کلومیٹر دور ہے۔ اور بھی کئی رائیں ہیں۔ مگر تاریخی دستاویزات (historical records) کسی کے پاس بھی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گیان واپی مسجد کی جگہ ایک وشو ناتھ مندر تھا۔ اور نگ زیب نے اس کو ڈھا کر ۱۶۶۹ میں یہاں ایک مسجد تعمیر کی۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ بنارس کے سنتوں اور پنڈتوں سے اس مغل بادشاہ کے اچھے تعلقات تھے۔ ایسی حالت میں اس نے مندر کو کیوں ڈھایا (صفحہ ۱۴)۔

مزید یہ کہ موجودہ وشو ناتھ مندر کو اندور کی مہارانی اہليا بائی ہولکر نے ۱۷۷۷ء میں بنوایا تھا۔ اس وقت ایک تجویز یہ تھی کہ گیان واپی مسجد کو ڈھا دیا جائے ۔ مہارانی نے بنارس کے پنڈتوں سے رائے لی۔ لوک پتی ترپاٹھی کے بیان کے مطابق، پنڈتوں نے اس کی مخالفت کی کیوں کہ ان کے نزدیک کسی دوسرے فرقہ کی عبادت گاہ کو ڈھا کر وہاں مندر نہیں بنایا جا سکتا۔ چنانچہ یہ تجویز ختم ہوگئی: The temple was rebuilt by the Maharani of Indore, Ahalya Bai Holkar, in 1777. Then there was a suggestion to demolish the Gyanvapi Mosque, and the Maharani consulted the pundits of Varanasi. According to Lokpati Tripathi, Congress (I) leader, the pundits were against this, for, according to them, a mandir could not be built by demolishing another community's place of worship. this put an end to the move. (14). اقتصادی نقصان ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جو لوگ بابری مسجد کو ڈھا ر ہے تھے، وہ اپنے خیال کے مطابق، پتھر کے ایک قدیم ڈھانچہ کو ڈھا ر ہے تھے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے انھوں نے ملک کے پورے اقتصادی ڈھانچہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page