Al-Risala · May 1993 · page 24

مسئلہ کی سنگینی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۴

سیاست سے الگ رہیں ۔ اسی کے ساتھ کاشی بیو پار منڈل نے شہر میں شانتی مارچ بھی کیے۔ اس کی وجہ تجارتی نقصان کا اندیشہ ہے ۔ بنارس کے تاجروں نے محسوس کیا کہ ان کی تجارت قائم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اجودھیا جیسی تحریک بنارس میں داخل نہ ہو۔ اگر یہ تحریک بنارس پہنچتی ہے تو اس کے بعد جو لاقانونیت اور دنگا ہو گا اس میں سب سے زیادہ نقصان تاجر طبقہ کا ہوگا۔ ایسی حالت میں کاروبار ٹھپ ہوگا اور ان سیاحوں کی آمد رک جائے گی جو ہزاروں کی تعداد میں مسلسل بنارس آتے ہیں اور جن کی وجہ سے بنارس میں قالینوں اور ساہیوں کا نفع بخش بزنس چل رہا ہے۔ یہی اقتصادی مسئلہ متھرا میں بھی پیش آیا ہے (ملاحظہ ہو فرنٹ لائن، ۲۹ جنوری ۱۹۹۳) بنارس کے اس تجربہ کو آج پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دیش کے لوگوں کو بتایا جائے کہ اس قسم کی تحریکیں چلانا گویا نان اشو کو اشو بنانا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ پچھلے چالیس برسوں میں انڈیا ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہو گیا ہے۔ اور دنیا میں اس نے اپنا مقام کھو دیا ہے۔ بہت سے ملک جو ہم سے زیادہ غریب تھے، وہ ہم سے آگے بڑھ گئے ۔ مثلاً چین، کوریا اور سنگاپور - ضرورت ہے کہ دیش کی تعمیر کے لیے مذہب کے بجائے اقتصادیات کو اشو بنایا جائے ۔

مسئلہ کی سنگینی

اس مسئلہ کی سنگینی ، نتائج کے اعتبار سے اتنی زیادہ ہے کہ نہ صرف انڈیا میں بلکہ ساری دنیا میں اس پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہاں میں بطور نمونہ ایک انگریزی میگزین ایشیا ویک کا حوالہ دوں گا۔ یہ ہانگ کانگ سے نکلتا ہے اور ٹائم گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔

ایشیا ویک نے اپنے شمارہ ۲۰ جنوری ۱۹۹۳ کے ایڈیٹوریل کا عنوان یہ بنایا ہے ـــ ایک خطرناک گھاٹی (A dangerous pass) اس میں اپنے مخصوص انداز میں تجزیہ کرتے ہوئے اس نے لکھا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایشیا کو اجودھیا کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے : Asia may have to pay heavy price for Ayodhya ایشیا ویک نے موجودہ تحریک کو ہندو فسطائیت (Hindu fascism) قرار دیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ یہ تحریک اگر اپنی منطقی حد (logical extreme) تک پہنچ گئی تو انڈیا کو اس کی ہولناک قیمت (terrible price) چکانی پڑے گی جس کا تحمل انڈیا نہ کر سکے گا جہاں ۵۰۰ ملین

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page