مانع اسباب
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۵
آدمی افلاس کا شکار ہیں۔ اور ۷۰ فی صد آدمی اب بھی بے پڑھے لکھے ہیں۔ ایسی حالت میں انتہائی طور پر ضروری ہے کہ مندر۔ مسجد کی اس نزاع کو بلاتاخیر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے ۔ اسی میں ہندو کا بھی فائدہ ہے ، اسی میں مسلمان کا بھی فائدہ ۔ اور اسی کے ذریعہ دیش کو ترقی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔
مانع اسباب
انسانی جسم میں خون سخت پر یشر کے ساتھ دوڑتا ہے۔ اس لیے اگر جسم میں کوئی زخم آ جائے تو خون فوراً بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ایک خطرہ کی صورت حال ہے۔ مگر جسم کے اندر ایک فطری نظام -(Natural mechanism) کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ جب زخم کی وجہ سے خون نکلنا شروع ہوتا ہے تو فوراً ہی جسم کے اندر کئی مانع اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جو خون کے بہاؤ کو روک دیتے ہیں۔ ۔ مثلاً رگوں کا سکڑنا ، خون میں کلاٹ بننا (blood clotting) وغیرہ۔ اس فطری نظام کو ہیمو سٹاسس (hemostasis) کہا جاتا ہے۔ (1015/IV)
یہ ایک آفاقی قانون ہے جو حادثہ کی ہر صورت حال میں پایا جاتا ہے۔ چنانیہ جب کوئی تخریب کی کارروائی وقوع میں آتی ہے تو عین اسی وقت کچھ مانع طاقتیں (deterrent forces) پیدا ہو جاتی ہیں جو اس تخریبی عمل کو روکنے کے لیے اس کے خلاف سرگرم ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی سماج میں کوئی تخریبی عمل صرف کچھ دیر جاری رہتا ہے اور پھر اپنے آپ اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
یہاں میں اضافہ کروں گا کہ یہ فطری عمل اجودھیا کے معاملہ میں بھی نان پوریا طرح پیدا ہو چکا ہے۔ انتہا پسند لیڈر چاہیں یا نہ چاہیں ، واقعہ یہ ہے کہ یہ مانع طاقتیں اس حد تک ظاہر ہو چکی ہیں کہ اب انھوں نے اس طرح کے حادثہ کے دوبارہ ظہور کے امکان کو سرے سے ختم کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں اگر چہ انتہا پسند لیڈر اپنی تحریک کے خاتمہ کا اعلان کر دیں تو یہ عین ان کے حق میں ہوگا۔ اس کے بعد وہ ایک ایسے عمل کا کریڈٹ پالیں گے جس کے لیے وہ مشکل ہی سے مستحق قرار دیے جا سکتے ہیں۔
اخبار اسٹیٹسمین کے سابق ایڈیٹر مسٹر جے این پوری کی اس رائے سے مجھے اتفاق ہے