Al-Risala · May 1993 · page 28

تین نکاتی فارمولا

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۸

جو انھوں نے روزنامہ پائینر (۲۰ جنوری ۱۹۹۳) میں شائع کی ہے ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ بی جے پی اپنے سیاسی مقصد کو ہندوتو کے لفظ سے ظاہر کرتی ہے۔ اس مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اس نے تمام تر فرقہ وارانہ جذبات (communal feeling) کو ابھارنے پر انحصار کیا ہے۔ مگر فرقہ وارانہ جذبات کی ایک حد ہے۔ اور واقعات بتاتے ہیں کہ بی جے پی کے لیے وہ آخری حد اب آگئی۔ وہ ہند تو جس کو یہ انتہا پسند لیڈر پیش کرتے ہیں وہ ۶ دسمبر کو اپنی خطرناک حدوں پر پہنچ چکا ہے، اب وہ مزید قابلِ استعمال نہیں :

Hindutva as interpreted by the hardliners reached its dangerous limits on December 6 and is no longer exploitable. (N.J. Nanporia)

تمام سنجیدہ لوگوں کی اس خواہش میں میں شریک ہوں کہ اس معاملہ کو اب باضابطہ طور پر ختم ہو جانا چاہیے ۔ ذاتی طور پر میں اس مسئلہ کے ساتھ ۱۹۸۶ سے برابر وابستہ رہا ہوں۔ اب کافی غورو خوض اور طرفین سے تبادلہ خیال کے بعد اس کا ایک حل سامنے آیا ہے۔ یہ حل تین نکات پرمشتمل ہے۔ میرا احساس ہے کہ یہی اس مسئلہ کے حل کی واحد ممکن تدبیر ہے۔ اور وہ یقیناً تمام متعلقہ فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔

تین نکاتی فارمولا

اجودھیا یا مندر مسجد کے قضیہ میں تین فریق ہیں ۔ ہندو مسلمان اور گورنمنٹ۔ تینوں فریق اگر مندرجہ ذیل اصول پر اپنی ذمہ داری ادا کریں تو انشاء اللہ مسئلہ ختم ہو سکتا ہے ۔ ۱۔ ہندوؤں نے مندر اور مسجد کے نام پر جو اندولن چلایا، اس کو اب وہ اجودھیا ہی میں اسٹاپ کر دیں۔ کسی حال میں بھی وہ اس کو ایودھیا سے آگے نہ لے جائیں۔ اس کی عملی صورت یہ ہے کہ ہندوؤں کی طرف سے ایک تحریری اعلان نامہ (declaration) جاری ہو جس میں چہاروں شنکرا چاریہ، اور مندر۔ مسجد تحریک میں شامل تمام ہندو جماعتوں (بھارتیہ جنتا پارٹی، وشو ہندو پریشد، آر ایس ایس، بجرنگ دل) کے ذمہ دار افراد اپنا دستخط کریں۔ اس میں واضح لفظوں میں یہ اقرار کیا گیا ہو کہ ہندو صاحبان ایودھیا کی بابری مسجد کے بعد اب کسی اور مسجد کے لیے اس قسم کا سوال کبھی نہیں اٹھائیں گے۔ بھارت کی بقیہ تمام مسجدیں، خواہ کسی شخص کے نزدیک ان کی جو بھی تاریخی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page