تین نکاتی فارمولا
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۹
نوعیت ہو، وہ ہمیشہ کے لیے مقدس مسجد کی حیثیت سے باقی رہیں گی۔ ہندو صاحبان کی طرف سے آئندہ ان میں کسی بھی تبدیلی کی مانگ نہیں کی جائے گی۔
۲۔ مسلمان اب اجودھیا کے اشو پر بالکل چپ ہو جائیں۔ بابری مسجد کی حفاظت اگر ان کی ذمہ داری تھی تو اس ذمہ داری کو وہ قربانی کی حد تک جاکر ادا کر چکے ہیں۔ اب اس معاملہ میں وہ معذور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے مسلمان شعوری طور پر فیصلہ کر لیں کہ اب وہ عملاً اس مسئلہ سے مکمل طور پر الگ ہو جائیں گے۔ اب تک انھوں ے خود اس مسئلہ کو اٹھارکھا تھا۔ اب وہ اس کو چھوڑ کر اس مسئلہ کو ملک کے ضمیر کے حوالے کر دیں گے۔
۳۔ حکومت ہند نے ۱۹۹۱ میں عبادت گاہوں کا قانون (1991 Places of Worship Act) منظور کیا ہے۔ جو عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق ہے۔ اس میں یہ قانونی ضمانت دی گئی ہے کہ تمام عبادت گاہوں کو (باستثنا بابری مسجد) ۱۵ اگست ، ۱۹۴۷ء کی حالت پر باقی رکھا جائے گا۔ یہ صحیح سمت میں ایک قدم ہے۔ اب حکومت اتنا اور کرے کہ وہ عبادت گاہوں کے تحفظ کے اس ایکٹ کو دستور ہند کا جز بنا دے۔ دستور کا حصہ بننے کے بعد بقیہ عبادت گاہوں کے تحفظ کی زیادہ پائیدار ضمانت حاصل ہو جائے گی۔
آخری بات
مذکورہ تین نکاتی فارمولے میں ہر فریق کی رعایت ہے۔ اگر سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ ہر ایک کے لیے قابل قبول حیثیت رکھتا ہے۔ اس کو مان لینے کے بعد ایک طرف موجودہ حالات میں اعتدال آئے گا۔ اور دوسری طرف اس سے جو پر امن فضا پیدا ہوگی وہ بے روک ٹوک ملک کی ترقی کی ضمانت بن جائے گی۔
۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو اور اس کے بعد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر جو حالات پیش آئے ہیں وہ بیحد قابل غور ہیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ اب حتمی فیصلہ کر لیا جائے کہ اجودھیا کے تجربہ کو اب کہیں اور نہیں دہرانا ہے۔ موجودہ حالات میں کسی مسجد کو توڑ کر وہاں مندر تعمیر کرنا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ ۶ دسمبر نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسا صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ دستور، قانون، اخلاقی روایات، سب کو بیک وقت ڈھا دیا جائے۔ ایک عمارت ڈھانچہ کی خاطر پور نے ملک کے