اجودھیا کا سبق
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۳۲
حق کی مانگ کرتا ہے تو اس کو جاننا چاہیے کہ دوسرا گروپ بھی اسی کے مساوی کوئی چیز اپنے لیے لینا چاہے گا۔ اس طرح علانیہ ہوگا کہ اس کے لیے ایک نئی محرومی کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا جو اس کی یافت کی مکمل نفی کر دے گا۔
۳۔ جیسا کہ معلوم ہے ، بابری مسجد کا تالا کھلنے کے بعد بھی ابتدائی مسئلہ تمام تر صرف ایک مقامی مسئلہ تھا۔ وہ زیادہ سے زیادہ ایک ٹاؤن کا مسئلہ تھا۔ مگر اس کے نام پر جب دونوں طرف سے پورے ملک میں ایجی ٹیشن چلایا گیا تو وہ مقامی حد سے نکل کر ایک آل انڈیا مسئلہ بن گیا۔ حتیٰ کہ وہ یہاں تک بڑھا کہ وہ ایک عالمی مسئلہ بن گیا۔ اس نے دونوں فرقوں کے لیے وقار کے مسئلے کی حیثیت اختیار کرلی۔ اس طرح غیر مناسب طور پر بڑھانے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ موجودہ الم ناک وسعت تک پہنچ گیا۔ ورنہ مسئلہ بننے کے بعد بھی، وہ ایک گم نام مسئلہ رہتا جیسا کہ اس سے پہلے کئی سو سال تک وہ گم نام مسئلہ بنا ہوا تھا۔
اس میں یہ سبق ہے کہ سماجی زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو حل کرنے کی کوشش ہمیشہ اس طرح کرنا چاہیے کہ وہ اپنے ابتدائی دائرہ میں محدود رہے۔ وہ کسی بھی حال میں اس سے آگے بڑھنے نہ پائے۔
۴۔ آخری بات یہ کہ اس معاملہ میں اب ہمیں کیا کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں میں کہوں گا کہ جو لوگ یہ مانگ کر رہے ہیں کہ بابری مسجد دوبارہ وہیں بناؤ وہ ایک ختم شدہ معاملہ کو دوبارہ نئی شدت کے ساتھ زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تاریخ کو الٹی سمت میں چلانا ہے۔ اور تاریخ کو الٹی سمت میں چلانا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔
اسی نزاکت کے پیش نظر میں نے اس معاملہ میں اپنا سہ نکاتی فارمولا پیش کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ (۱) مسلمان اب بابری مسجد کے لیے اپنا ایجی ٹیشن مکمل طور پر ختم کر دیں (۲) ہندو اپنی مندر ۔ مسجد تحریک کو ہمیشہ کے لیے اجودھیا میں اسٹاپ کر دیں ، اس کے بعد وہ کسی بھی دوسری مسجد کا باب ہر گز نہ کھولیں (۳) حکومت یہ کرے کہ عبادت گاہوں کا تحفظ کے قانون ۱۹۹۱ کو دستور میں شامل کر کے اس کو بنیادی حقوق کا جزو بنا دے۔
یہ فارمولا دونوں فرقوں کے لیے باعثِ سمجھوتہ کی ایک بنیاد ہے۔