اجودھیا کا سبق
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۳۳
زندگی میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک نا خوش گوار حقیقت کو ماننا پڑتا ہے۔ کیونکہ علمی اعتبار سے اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہوتا۔ فارمولے کا پہلا نکتہ اسی اصول پر مبنی ہے۔ کیوں کہ بابری مسجد کے معاملہ میں اب مسلمانوں کے لیے جو چوائس ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ بابری مسجد کو دوبارہ اسی جگہ پر بنائیں۔ حقیقی چوائس یہ ہے کہ بابری مسجد کو اسی جگہ بنانے کی کوشش میں ہزاروں نیا مسئلہ اپنے لیے کھڑا کر لیں۔
فارمولے کا دوسرا نکتہ اس مقصد کے لیے ہے کہ اس قسم کی بھیانک غلطی کو اب کسی اور مسجد کے معاملہ میں نہ دہرایا جائے۔ یہ نکتہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ۶ دسمبر کے بعد ہر پیش آنے والے واقعات نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ہندو صاحبان کے لیے جو چیز ممکن ہے وہ مسجد کی جگہ مندر بنانا نہیں ہے۔ بلکہ مسجد کی جگہ مندر بنانے کے جوش میں پورے ملک کو تباہ و برباد کر دینا ہے۔ تیسرا نکتہ قانونی ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے مسجد اور عبادت گاہ کے معاملہ کو اس طرح مستحکم کر دیا جائے کہ اب کوئی فریق دوبارہ اس قسم کی غلطی نہ کر سکے۔ اور اس کی عملی صورت یہ ہے کہ اس بات کی مستحکم قانونی ضمانت فراہم کر دی جائے کہ ۱۹۴۷ء میں جو مسجد یا عبادت گاہ جس حال میں تھی، اسی حال میں اس کو برقرار رکھا جائے گا۔
چونکہ اس معاملہ میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو ہندو سائڈ کی طرف سے ایک جارحانہ اقدام کیا گیا ہے اور بابری مسجد کے تاریخی ڈھانچہ کو کسی جواز کے بغیر توڑ دیا گیا ہے، اس لیے اب سب سے پہلے ہندو سائڈ کو یہ کرنا ہے کہ ان کی طرف سے ایک تحریری ڈیکلریشن جاری ہو۔ اس میں فارمولے کے تینوں اجزاء کو صدق دل سے تسلیم کرنے کا متفقہ اعلان کیا گیا ہو۔
اس ڈیکلریشن پر چاروں شنکر اچاریہ دستخط کریں۔ تمام ان سیاسی اور غیر سیاسی پارٹیوں کے ذمہ دار اس پر دستخط کریں جو اجودھیا کے اشو میں شامل رہی ہیں۔ ملک کے مشہور اور معتمد افراد کا تصدیقی دستخط بھی اس میں شامل ہو۔ اسی کے ساتھ حکومت کی طرف سے اس کا ذمہ دار اس پر اپنا دستخط ثبت کرے۔ اس قسم کا ایک ڈیکلریشن جاری ہونے کے بعد وہ بحران ختم ہو جائے گا جس سے ۶ دسمبر کے بعد پوری قوم دو چار ہو گئی ہے۔