Al-Risala · May 1993 · page 35

آگے کی طرف

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۳۵

کا اظہار مختلف ناخوشگوار یوں کی صورت میں ہوتا رہتا ہے۔ بٹوارہ کا ذمہ دار مسلمانوں کو قرار دیتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ اب برادران وطن کے لیے اس کے سوا کوئی متبادل صورت نہیں کہ وہ بٹوارہ کو گزری ہوئی تاریخ کے خانے میں ڈال دیں اور یہ بھول جائیں کہ کس نے بٹوارہ کرایا اور کس نے اس کی مانگ کی۔ اب مسئلہ بٹوارہ کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ بٹوارہ کا حساب چکانے میں خود ملک تباہ ہوا جار ہا ہے۔

۱۹۴۷ تک بٹوارہ مسلمانوں کا مسئلہ تھا۔ مگر اب یہ خود ہندوؤں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ کیوں کہ بٹوارہ کی یاد ان کے اندر معتدل نفسیات پیدا نہیں ہونے دیتی۔ اور جب تک معتدل نفسیات نہ آئے وہ ملک کی ترقی میں اپنا بھر پور حصہ ادا کرنے میں بھی نا کام رہیں گے۔ بٹوارہ بذات خود کوئی ایسا حادثہ نہیں جو باہمی ترقی کی راہ میں ناقابل عبور رکاوٹ بن جائے تاریخ کی متعدد مثالیں اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ ایک تازہ مثال جرمنی کی ہے۔ ۴۹ ۱۹ میں جرمنی کی تقسیم ہوئی ۔ مگر یہ تقسیم مغربی جرمنی کو ترقی کی طرف بڑھنے سے نہ روک سکی۔ دوسری عالمی جنگ کے نتیجہ میں جرمنی کی اقتصادیات بالکل تباہ ہوگئی۔ اس کو مغربی جرمنی اور مشرقی جرمنی میں بانٹ کر اسے کمزور کر دیا گیا تھا۔ الائیڈ ہائی کمیشن (Allied High Commission) کی کونسل نے ۱۹۴۹ میں مغربی جرمنی کے لیے یہ حکم نافذ کیا تھا کہ اس کے یہاں کوئی نیشنل پولیس نہ ہوگی، وہ صرف میونسپلٹی کی سطح کی پولیس رکھ سکے گا۔ وغیرہ۔

مگر تقسیم اور کمزوری جرمنی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔ وہ اپنی جد و جہد سے آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ یورپ کا نمبر ایک ملک بن گیا، جرمنی اس شاندار انجام تک کیسے پہنچا، کچھ لوگ اس کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ اس نے دوسرے یورپی ملکوں کے مقابلے میں دیر سے اپنا ترقی کا سفر شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بعد کو سفر شروع کرنے والے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ پہلے شروع کرنے والوں سے اعلیٰ ٹکنالوجی حاصل کر سکتے ہیں : Late starters can grow faster because they can borrow advanced technology from the early starters. (6/214)

یہ تو یہ ہے صحیح نہیں۔ کیوں کہ بعد کو شروع کرنے والوں میں تو اندھا پن بھی ہے مگر وہ اب ۴۶۴۱ء رسالہ ۴۶۴۱ء

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page