Al-Risala · May 1993 · page 36

آگے کی طرف

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۳۶

ملک کوئی قابل ذکر ترقی نہ کرسکا۔ اصل یہ ہے کہ مغربی جرمنی کی تیز رفتار ترقی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس نے دوسری عالمی جنگ کے نقصان اور اس کے بعد ہونے والی ملکی تقسیم کو بھلایا۔ گزرے ہوئے ماضی کو بھلا کر اس نے اپنی تمام طاقت آنے والے مستقبل کی تعمیر میں لگادی۔ بدقسمتی سے ہندوؤں کی ایک تعداد، خاص طور پر شمالی ہند کے ہندوؤں کی اکثریت ۱۹۴۷ میں ہونے والے بٹوارہ کو بھلا نہ سکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شمالی ہند کا علاقہ ، جو ملک کا قائدانہ علاقہ ہے، وہ زیادہ تر منفی سرگرمیوں میں پڑا رہا۔ وہ یکسوئی کے ساتھ مستقبل کی تعمیر میں اپنے آپ کو وقف نہ کرسکا۔

اب آخری وقت آگیا ہے کہ برادران وطن اس کوتاہی کو محسوس کریں۔ وہ بٹوارہ کی نفسیات سے اپنے آپ کو خالی کر کے نئے انڈیا کی مثبت تعمیر میں لگ جائیں۔ اس کے بعد وہ دن دور نہیں جب کہ ملک تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر شروع کر دے اور عالمی نقشہ میں اپنے لیے وہ با عزت جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے جس کا وہ بجاطور پر مستحق ہے۔ اب انڈیا کے مسلمانوں کے مسئلہ کو لیجئے! ۔ ملک کے مختلف فرقوں میں وہ پہلے ہی ترقی کے اعتبار سے پیچھے تھے ، اب ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد ڈھائے جانے کے بعد وہ از حد مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کے لیے اس ملک میں ترقی کے مواقع موجود نہیں۔ یہ سوچ سراسر غلط ہے۔ اس سلسلہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ کوئی بھی خارجی حادثہ کسی قوم کے عروج و زوال کا فیصلہ نہیں کرتا۔ کسی قوم کے عروج و زوال میں جو چیز فیصلہ کن بنتی ہے وہ اس قوم کی داخلی طاقت ہے، نہ کہ خارجی واقعات۔ قو میں ہمیشہ اپنے داخلی عزم سے آگے بڑھتی ہیں۔ اگر عزم وہمت موجود ہو تو کوئی بھی خارجی حادثہ قوم کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔

جہاں تک مسجد کا تعلق ہے ، تو مسجدوں کے ساتھ اس طرح کے حادثات بار بار پیش آئے ہیں۔ ۶۹۲ء میں حجاج بن یوسف کی فوجوں نے کعبہ کے اوپر منجنیق کے ذریعہ گولہ باری کی۔ حتی کہ تاریخ میں اس کی بابت یہ الفاظ لکھے گئے کہ مکہ کا محاصرہ کر لیا گیا۔ حرم پر گولہ باری کی گئی۔ اور کعبہ میں آگ لگادی گئی۔ مقدس حجر اسود تین جگہ سے ٹوٹ گیا :

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page