ہمت کا امتحان
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۰
یہ دنیا ایک بدلتی ہوئی دنیا ہے، یہاں افراد اور قوموں کو بار بار تخلیقی صلاحیت کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ تخلیقی صلاحیت ہی اس تغیر پذیر دنیا میں ترقی کا واحد راز ہے۔ تخلیقی صلاحیت کے بغیر یہاں کسی کے لیے بھی ترقی اور کامیابی کو پانا ممکن نہیں۔
اس دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بولنا شروع کرتا ہے۔ پھر حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ چپ ہو جائے ۔ آدمی آگے کی طرف بڑھتا ہے۔ پھر حالات کہتے ہیں کہ پیچھے کی طرف لوٹ جاؤ۔ آدمی ایک مانگ لے کر اٹھتا ہے۔ پھر حالات پکارتے ہیں کہ اپنی زبان بند کر لو۔ آدمی حالات کا ایک اندازہ کرکے اپنا منصوبہ بناتا ہے۔ پھر حالات کچھ سے کچھ ہوجاتے ہیں، اور ضرورت ہوتی ہے کہ نیا نقشہ اور نیا منصوبہ بنایا جائے ۔
اس دنیا کا یہ قانون افراد کے لیے بھی ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ یہاں صرف وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں، جو پیش آمدہ مواقع پر نیا فیصلہ لے سکیں۔ جو لوگ حالات کے مطابق نیا فیصلہ لینے سے محروم رہیں وہ یقیناً کامیابی کی منزل ملک پہنچنے سے بھی محروم رہیں گے۔ جب بھی کوئی نیا فیصلہ لیا جاتا ہے تو اس میں رسک بھی ضرور شامل رہتا ہے۔ رسک زندگی کا ایک ناگزیر عنصر ہے۔ رسک لیے بغیر اس دنیا میں کوئی بھی عمل نہیں کیا جاسکتا، نہ شخصی سطح پر اور نہ قومی سطح پر۔ رسک سے خالی دنیا صرف قبرستان میں مل سکتی ہے۔ جہاں تک زندگی کے میدانوں کا تعلق ہے، وہ ہمیشہ رسک سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔
زندگی میں جب بھی کوئی نیا موڑ آتا ہے تو وہ افراد اور قوموں کے لیے امتحان ہوتا ہے۔ یہ موڑ ہر ایک کے لیے آتا ہے، موڑ آنے پر جو لوگ وہاں مڑنے سے ہچکچائیں وہ ٹھٹھکر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ موڑ آنے کے بعد حوصلہ کیا تھا آگے بڑھ جائیں، وہی انقلابات کی اس دنیا میں کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔ اجودھیا کا مسئلہ جو اس وقت تک کے اکثریتی فرقہ اور اقلیتی فرقہ کے درمیان نزاع کا سبب بنا ہوا ہے، وہ بھی اسی قسم کا ایک موڑ ہے۔ ضرورت ہے کہ دونوں فرقے اس نازک تاریخی موقع پر نیا فیصلہ لینے کی ہمت کریں۔ کسی انقلابی فیصلے تک پہنچنا صرف اس وقت ممکن ہوگا جبکہ دونوں حوصلہ مندی کا ثبوت دیں، دونوں ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔ حتیٰ کہ خطرہ مول لے کر معاملہ کو ختم کرنے پر راضی ہو جائیں ۔ زندگی ہمت کا امتحان ہے، اور اجودھیا آج دونوں فرقوں کے لیے اسی ہمت کا امتحان بن گیا ہے۔ ماہِ رِسالہ مئی ۱۹۹۳