Al-Risala · May 1993 · page 39

ہمت کا امتحان

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۳۹

زندگی مسائل سے بھری ہوئی ہے۔ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو نادان آدمی اپنی نادانی سے اس کو بگاڑ لیتا ہے، اور دانشمند آدمی مسئلہ کو عبور کرنے کے دوبازو آگے بڑھا دیتا ہے۔ زندگی کا سفر کبھی ہمواری کے ساتھ طے یں ہوتا یہاں بار بار اونچ نیچ کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں ہمیشہ احوال و ظروف بدلتے رہتے ہیں۔ اس لیے اس دنیا میں بار بار نیا فیصلہ لینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ جو لوگ بدلے ہوئے حالات میں نیا فیصلہ نہ لے سکیں وہ کامیاب رہتے ہیں۔ اور جو لوگ نیا فیصلہ لینے کی دانش مندی نہ دکھا سکیں وہ یہاں ناکام و نامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔

دورِ اول میں جب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا وطن چھوڑ کر مکہ سے مدینہ جانے کا ارادہ کیا تو یہ ایک نیا فیصلہ تھا۔ حدیبیہ کے موقع پر جب عمرہ کے لیے آگے بڑھنے کے بجائے آپ نے یہ طے کیا کہ جہاں سے آئے تھے وہیں دوبارہ واپس چلے جائیں تو یہ ایک نیا فیصلہ تھا۔ غزوہ موتہ کے موقع پر جب خالد بن الولید نے یہ منصوبہ بنایا کہ رومیوں سے لڑائی جاری رکھنے کے بجائے اپنی فوجوں کو پیچھے کی طرف لے جائیں تو یہ ایک نیا فیصلہ تھا۔ اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میں بار بار اس طرح کے نئے فیصلے لیے گئے ہیں۔ یہی نئے فیصلے تھے جن کی وجہ سے اسلام کی تاریخ مسلسل آگے بڑھتی رہی۔ اگر اہل اسلام میں نیا فیصلہ لینے کی طاقت نہ ہوتی تو اسلام کی تاریخ بند گلی میں پھنس کر رہ جاتی، وہ آگے بڑھنے کی صلاحیت کھو دیتی۔ آج عالمی سطح پر مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے نیا فیصلہ لینے کی صلاحیت کھودی ہے۔ ان کے تمام لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ صرف راستہ کی رکاوٹوں سے ٹکرانا جانتے ہیں، وہ رکاوٹوں سے ہٹ کر اپنے لیے نیا راستہ بنانا نہیں جانتے۔ موجودہ زمانہ میں بار بار یہ صورت پیش آئی کہ مسلم رہنماؤں کو کوئی نیا فیصلہ لینا تھا۔ مگر ان کا حال یہ ہوا کہ ایک بار جس راستہ پر چل پڑے، بس آنکھ بند کر کے اس پر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ خود بھی خندق میں گرے اور قوم کو بھی خندق میں گرا دیا۔

یہ دنیا ایک تغیر پذیر دنیا ہے۔ یہاں افراد اور قوموں کے لیے تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تخلیقی صلاحیت کے بغیر یہاں ترقی اور کامیابی ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page