Al-Risala · May 1993 · page 42

سب سے بڑا خطرہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۲

ذہن بننے لگے گ۱۔ انٹلیکچول کلاس کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کی فکری تربیت اس طرح کرے کہ وہ پیش آنے والے واقعات کو صحیح رخ سے دیکھ سکیں۔ مگر ہمارے ملک کا انٹلیکچول کلاس اس معاملے میں اپنی ذمہ داری کو درست طور پر نبھانے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔

اپنے ناقص علم کی بنا پر یا اپنے حقیر مفادات کی بنا پر، اس نے یہ کیا کہ نان ایشو کو ایشو بنایا۔ ایک واقعہ جس کا تعلق کسی اور پہلو سے تھا اس کو کسی اور پہلو سے جوڑ دیا۔ ایک معاملہ جو نظر انداز کرنے کے قابل تھا اس کو بڑھا چڑھا کے پیش کر کے اس پر لوگوں کو بھڑکا دیا۔ دس باتوں میں نو باتیں اگر اچھی تھیں تو ان نو باتوں کو بیان نہیں کیا اور ایک بری بات کا چرچا زور شور کے ساتھ ہر طرف پھیلا دیا۔ ایک چیز جو افواہ کے نوعیت کی تھی، اور ضرورت تھی کہ اس کی تحقیق کی جائے، مگر بلا تحقیق اس کو شہرت دینا شروع کر دیا۔ وغیرہ۔

اس قسم کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں کی سوچ بگڑ گئی۔ اب عام لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ نہ مسائل کا صحیح تعین کر پاتے اور نہ یہ سمجھ پاتے کہ ان مسائل کے حل کے لیے انھیں کیا کرنا چاہیے ۔ پہلے وہ زیادہ تر اپنی فطرت اور کامن سنس کی رہ نمائی میں ایک قریبی فیصلہ کر لیتے تھے، مگر اب میڈیا کے دور میں وہ انٹلیکچول کلاس کی باتوں کو سن کر یا پڑھ کر رائے بناتے ہیں، اس بنا پر سارا معاملہ غلط ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے یہاں میں کچھ مثالیں دوں گا : ا۔ ہندو دانشوروں کے ایک طبقہ نے پچھلے کچھ برسوں سے ہندوؤں میں نہایت شدت کے ساتھ یہ ذہن پیدا کیا ہے کہ کانگریس پارٹی اپنے طویل دور حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ خوش کرنے (Appeasement) کی پالیسی چلاتی رہی ہے۔ اس پالیسی کی ایک روشن مثال (glaring example) ان کے نزدیک ، شاہ بانو تحریک کے بعد بننے والے اس ایکٹ کی ہے جس کا پورا نام اس طرح ہے :

Muslim Women (Protection of Rights on Divorce) Act 1986 اس ایکٹ کو راجیو گاندھی کی حکومت نے منظور کیا تھا۔ مگر اس کو مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی سے جوڑنا سراسر بے اصل ہے، کیونکہ خوش کرنا ایک ایسا کام ہے جو یک طرفہ طور پر کیا جاتا ہے۔ جب کہ یہاں واضح طور پر دو طرفہ معاملہ کیا گیا۔ راجیو گاندھی کی حکومت نے ۱۹۸۶ء ۲۴ الحلال مئی ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page