Al-Risala · May 1993 · page 43

سب سے بڑا خطرہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۳

کو یہ ایکٹ لوک سبھا میں منظور کرایا تھا، مگر جب کانگریسی حکومت نے اس ”مسلم نوازی“ کا فیصلہ کیا تو اسی کے ساتھ اس نے زیادہ بڑے پیمانے پر ”ہندو نوازی“ کا عمل کیا۔ چنانچہ اس نے یکم فروری ۱۹۸۶ کو بابری مسجد کے دروازے پر عدالتی فیصلہ کے تحت لگے ہوئے تالے کو کھلوا دیا۔ دونوں کا تقابل کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کے ساتھ اگر اپیز منٹ ہوا تو ہندوؤں کے ساتھ پر اپیز منٹ کا معاملہ کیا گیا۔

ہندو دانشوروں نے تالا کھولنے کے معاملہ کو حذف کر کے ایکٹ بنانے کے معاملہ کو خوب بڑھا چڑھا کر پھیملا۔ یہاں تک کہ ہندوؤں کے ایک بڑے طبقے کے ذہن کو انھوں نے مسموم کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں اور اس طرح کی دوسری باتوں کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ ہندوؤں کے دل میں مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوگئی۔ ہندو لوگ دیش کی ثبت تعمیر کے بجائے مسلمانوں کے خلاف منفی سرگرمیوں میں اپنی طاقت صرف کرنے لگے۔

اب اسی نوعیت کی برعکس مثال لیجئے جب کہ انس لیکچول کلاس نے اپنا صحیح رول ادا کیا اور اس کے نتیجہ میں قوم کو زبردست ترقی کا تحفہ لایا۔ یہ دوسری مثال جاپان کی جدید تاریخ سے تعلق رکھتی ہے۔ ہیروشیما کو جاپان کے ایک بڑے شہر کی حیثیت حاصل ہے۔ ہیروشیما میں جنگی اہمیت کی صنعتیں قائم کی گئیں۔ ۱۸۶۸ء کے بعد تقریباً ۵۰ سال تک اس کو جاپان میں سب سے بڑے ملٹری سنٹر کی حیثیت حاصل تھی۔ دوسری عالمی جنگ میں ۶ اگست ۱۹۴۵ کو امریکہ نے ہیروشیما کے اوپر ایٹم بم گرایا اور اس کو پوری طرح تباہ کر دیا۔

اس کے بعد جاپان میں امریکہ کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوئی۔ خاص طور پر فوج کے لوگ امریکہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھنے لگے اور نتائج کی پروا کیے بغیر اس سے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس وقت جاپانیوں میں سے کچھ سچے قسم کے انس لیکچول اٹھے۔ انھوں نے پوری جاپانی قوم کی سوچ کو بدل دیا۔

انھوں نے جاپانیوں کو بتایا کہ اگست ۱۹۴۵ میں امریکہ نے اگر ہمارے ہیروشیما کو تباہ کیا تو اس سے پہلے دسمبر ۱۹۴۱ میں ہم امریکہ کے پرل ہاربر کو تباہ کر چکے تھے، اس طرح معاملہ برابر ہو گیا۔ اس بات نے جاپانیوں کے ذہن کو ٹھنڈا کر دیا۔ وہ منفی رخ پر دوڑنے کے بجائے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page