Al-Risala · May 1993 · page 50

نا اُمیدی میں اُمید

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۵۰

آگے وہ کوئی انقلابی کردار ادا نہیں کر سکتی۔ کیوں کہ کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ زمانہ سے لڑ کر اپنا ایک الگ سیاسی جزیرہ بنا سکے۔ مسلم نٹائسزم مسلم ملکوں میں سیاسی طاقت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اسی طرح ہندو نیشنلزم بھی یہاں سیاسی طاقت حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ ۳- انڈیا کی یہ مذہبی۔ سیاسی تحریک بنیادی طور پر ہندی اسپیکنگ کمیونٹی کی تحریک ہے۔ اس کا سب سے بڑا مرکز یوپی ہے جہاں ایک ہی ریاست میں پارلیمنٹ کی ۸۵ سیٹیں موجود ہیں۔ اس تحریک کا خاص ایڈوانٹیج یہ ہے کہ وہ ہندی اسپیکنگ ریاستوں کے ووٹروں کے تقریباً ۲۵ فیصد حصہ کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، مگر اس کا سب سے بڑا ایڈوانٹیج ہی اس کا سب سے بڑا ڈس ایڈوانٹیج بھی ہے، کیوں کہ اس کی جس صفت میں نصف انڈیا کے لیے اپیل ہے، وہی صفت بقیہ نصف میں اس کو غیر معقول بنا دیتی ہے۔ یہ انڈیا کا غیر ہندی خواں علاقہ ہے۔

ساؤتھ انڈیا کے سلسلہ میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ وہ ہندی کے لسانی غلبہ کو بھی گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ پھر وہ ہندی کے لسانی غلبہ کے ساتھ ہندی دانوں کے سیاسی غلبہ کو کس طرح گوارا کرلے گا۔

۴- مذہب کا کام کیرکٹر بلڈنگ ہے، مذہب کا کام گورنمنٹ بلڈنگ نہیں۔ مذہب سے اگر کیرکٹر بنانے کا کام لیا جائے تو یہ مذہب کی تعمیل ہے۔ لیکن اگر مذہب کو گورنمنٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا جائے تو یہ مذہب پر عمل کرنا نہیں، یہ مذہب کا ایکسپلائٹیشن ہے۔ اور ایکسپلائٹیشن کبھی بھی بہت دیر تک کارآمد نہیں ہوتا۔

کسی بھی چیز کا غلط استعمال (misuse) کرنا برا ہے۔ اور مذہب جیسی مقدس چیز کا غلط استعمال کرنا اور بھی زیادہ برا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ مذہب کو ایکسپلائٹیشن کا ذریعہ بناتے ہیں وہ کبھی کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچتے۔

اس قسم کے مختلف اسباب ہیں جو واضح طور پر بتاتے ہیں کہ ۶ دسمبر نے ہماری ریپبلک کے لیے کوئی قابلِ لحاظ مسئلہ پیدا نہیں کیا ہے۔ کچھ وقتی خلفشار کے بعد ہماری گاڑی دوبارہ اپنی پٹری پر آجائے گی۔ اور پھر وہ اسی طرح چلنے لگے گی جس طرح وہ اس سے پہلے چل رہی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page