Al-Risala · May 1993 · page 49

نا اُمیدی میں اُمید

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۹

ایک تقریر آج کی بحث کا موضوع ہے: ہماری ری پبلک ۶ دسمبر کے بعد (Our Republic - Post 6 December 1992) انڈیا کی تاریخ میں ۶ دسمبر کا واقعہ بلاشبہ ایک ہلا دینے والا واقعہ ہے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس کی وجہ سے ہماری ری پبلک کے ڈھانچہ میں کوئی قابلِ لحاظ تبدیلی آنے کا امکان نہیں۔ اس کے کئی واضح اسباب ہیں۔

۱- ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کا واقعہ ایک کھلا، ہوا تشدد کا واقعہ تھا۔ یہ ایک مسلم اصول ہے کہ اگر کسی کو یقین ہو کہ وہ غیر متشددانہ طور پر اپنا مقصد حاصل کر سکتا ہے تو وہ کبھی تشدد کا طریقہ اختیار نہیں کرتا۔ تشدد کا طریقہ اختیار کرنا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے لیے پر امن اپنا مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔

اگر یہ مان لیا جائے تو ۶ دسمبر کا واقعہ اصحابِ واقعہ کے لیے اپنی نفی آپ (سیلف نگیریشن) کے ہم معنی تھا۔ جن لوگوں نے یہ تشدد کیا، انھوں نے ایسا کر کے خود اپنے آپ کو پیچھے دھکیل دیا ہے نہ کہ ہماری ڈیمو کریٹک سیکولر ری پبلک کو۔ ۶ دسمبر کے بارہ میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس کے پیچھے جو تحریک ہے، یہ اس کے لیے خاتمہ کا آغاز (blessing in disguise) کے ہم معنی ہے۔ ۲- دوسری بات یہ کہ جس مذہبی سیاسی تحریک نے ۶ دسمبر کا واقعہ کیا وہ دراصل پاکستان اور دوسرے مسلم ملکوں میں چلنے والی ان تحریکوں کا بھارتی ایڈیشن ہے جس کو عام طور پر اسلامائزیشن کی تحریک کہا جاتا ہے۔ اسلامائزیشن کی یہ تحریکیں اس سے پہلے پاکستان اور مصر اور دوسرے کئی مسلم ملکوں میں زور و شور سے چلائی گئیں۔ لیکن ہر جگہ وہ ناکام رہیں۔ مسلم ملکوں کی ان تحریکوں نے وقتی طور پر سماج میں کچھ از عاج (nuisance) تو ضرور پیدا کیا۔ مگر اس سے آگے ملک کا نقشہ بدلنے میں وہ کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم ملکوں کی یہ تحریکیں دراصل خلافِ زمانہ تحریکیں تھیں۔ وہ اپرٹ آف دی ایج کے خلاف تھیں۔ ٹھیک اسی طرح انڈیا کی مذہبی۔ سیاسی تحریک بھی اپرٹ آف دی ایج کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ بھی زیادہ سے زیادہ سماج میں کچھ از عاج پیدا کر سکتی ہے۔ اس سے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page