نماز ذریعہ علاج
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۴
نماز ذریعہ علاج
کان فتی من الانصار یصلی مع النبی انصار کا ایک نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم ولا یدع شیئا کے ساتھ نماز پڑھتا تھا۔ مگر اسی کے ساتھ وہ من الفواحش والسرقة الا رکبه فواحش اور سرقہ کا بھی ارتکاب کرتا تھا۔ اس کا فذکر للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال : ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا۔ آپ ان الصلاة ستنهاہ - فلم يلبث ان نے فرمایا کہ نماز عنقریب اس کو ان چیزوں سے تاب و صلحت حاله فقال رسول الله روک دے گی۔ آخر کار اس نے توبہ کر لی اور صلی الله عليه وسلم : الم اقل لكم اس کا حال درست ہو گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ (الجامع لاحکام القرآن ۱۳/ ۴۸ - ۴۴) صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا۔
نماز اگر واقعی شعور کے ساتھ پڑھی جائے تو وہ آدمی کے اندر حساسیت کو جگانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ جب آدمی کے اندر دینی حساسیت جاگ اٹھتی ہے تو اس کے بعد وہ اپنے آپ اصلاح کے راستہ کو اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے بعد نماز اس کے لیے صرف ایک روایتی عمل نہیں رہتی، بلکہ وہ اس کے اوپر نگرابن جاتی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : (ان الصلاۃ تنھی عن الفحشاء والمنکس (نماز آدمی کو فحش اور بری باتوں سے روکتی ہے) مذکورہ نوجوان پہلے بے شعوری کی نماز پڑھتا تھا۔ دھیرے دھیرے اس کا ذہن بدلا۔ وہ چونکہ عربی جانتا تھا، اس لیے قرآن کی قرآت اور نماز کی دوسری دعائیں اور اذکار اس کے ذہن پر اثر ڈالتے رہے۔ مسجد میں اہلِ ایمان سے ملاقات اور گفتگو اس کو نئی سوچ کی طرف بڑھاتی رہی۔ اس طرح کی مختلف چیزیں مسلسل اس کے اوپر اثر انداز نہ ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ بے روح نمازی سے اوپر اٹھ کر وہ سچا نمازی بن گیا۔
ہر شکل کے ساتھ ایک اپرٹ ہوتی ہے۔ کوئی آدمی اگر شکل کو پوری طرح اختیار کر لے تو اپرٹ بھی دھیرے دھیرے اس کے اندر پیدا ہو جائے گی۔