کلمۂ حکمت
الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۵
کلمۂ حکمت
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں بتاتی ہیں آپ کو جب بھی دو صورتوں میں سے ایک صورت کا اختیار کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان صورت انتخاب فرماتے تھے (ما خير بين امرين إلا اختار ايسر هما)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دانش مند وہ نہیں جو خیر اور شر کے فرق کو جانے۔ دانش مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کون سا خیر ہے (ليس العاقل الذی يعرف خير من الشر ولكنہ الذی يعرف خير الشرين) العبقريات الاسلاميۃ للعقاد، صفحه ۵۰۵ اسی بات کو امام شافعیؒ نے اس طرح کہا کہ دانش مند وہ نہیں ہے جس کو خیر اور شر کے درمیان انتخاب کرنا ہو اور وہ ایک چیز کا انتخاب کرلے۔ دانش مند تو وہ ہے جو دو شر کے درمیان جاجائے اور پھر دونوں میں سے جو آسان ہے اس کا انتخاب کرے (ليس العاقل الذی يقع بين الشر والخير فيختار - إنما العاقل الذی يقع بين الشرين فيختار اليسر هما) الامام الشافعی، تالیف عبد الحلیم الجندی، القاهره، صفحه ۴۹ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ شہر میں غیر مسلموں کا ایک جلوس نکلتا ہے۔ وہ مسلم کش نعرہ لگاتا ہوا مسلمانوں کے محلے سے گزرتا ہے جو مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر دینے والا ہوتا ہے۔ یہ بظاہر شر کی ایک صورت حال ہے۔ لیکن بار بار کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسلمان اگر اس شر کو روکنے کے لیے اٹھیں تو ایسا نہیں ہوتا کہ جلوس کا خاتمہ ہو جائے۔ اس کے بجائے عملاً جو چیز پیش آتی ہے وہ یہ کہ جلوس کا معاملہ بڑھ کر فساد کا معاملہ بن جاتا ہے۔ گویا اس مسئلے میں مسلمانوں کے لیے واقعی انتخاب جلوس اور بے جلوس میں نہیں ہے۔ انتخاب جلوس اور فساد میں ہے۔ اب مذکورہ اسلامی اصول کے مطابق، عقل مند وہ ہے جو جلوس کو برداشت کرلے تاکہ وہ ہلاکَت خیز فساد سے بچ جائے۔
موجودہ دنیا میں تمام معاملات کا حال یہی ہے۔ یہاں اکثر اوقات کم شر اور زیادہ شر کے میان انتخاب کا مسئلہ رہتا ہے نہ کہ خالص شر اور خالص خیر کے درمیان۔ ۵ - الرسار جون ۱۹۹۳