زمانہ کا فرق
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۹
زمانہ کا فرق
چمگادڑ کی عادت ہے کہ وہ عام چڑیوں کی طرح نہیں بیٹھتا۔ بلکہ بیٹھنے والی جگہ کو پیروں سے پکڑ کر لٹک جاتا ہے۔ چمگادڑ کی یہ عادت قدیم زمانہ میں اس کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھی۔ وہ شاخ یا اس قسم کی دوسری چیزوں پر لٹکتا اور پھر جب چاہتا اُڑ جاتا۔
مگر اب بجلی کے زمانہ میں چمگادڑ کی یہ عادت اس کے لیے موت کا سبب بن گئی ہے۔ عام چڑیاں اب بھی بجلی کے تار پر بیٹھتی ہیں اور اُڑ جاتی ہیں۔ مگر چمگادڑ بجلی کے تار پر آتا ہے تو وہ اس کے لیے موت کا پیغام ثابت ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بجلی کا صرف ایک تار چھونا خطر ناک نہیں ہے۔ خطرناک یہ ہے کہ اس کے دونوں تاروں کو بیک وقت چھوا جائے۔ عام چڑیاں صرف ایک تار پر بیٹھتی ہیں۔ ان کا تعلق دوسرے تار سے ہونے نہیں پاتا اس لیے وہ محفوظ رہتی ہیں۔ اس کے برعکس چمگادڑ اپنی عادت کی وجہ سے تار کو پکڑ کر لٹکتا ہے۔ قدرتی طور پر اس کا جسم دوسرے تار کو بھی چھونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے شارٹ سرکٹنگ ہوتی ہے اور وہ مر جاتا ہے۔
چمگادڑ کے لیے یہ عذر ہے کہ اُس کو زمانہ کے اس "فرق" کا پتہ نہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی غلطی اکثر وہ انسان کرتا ہے جس کو اس کے پیدا کرنے والے نے عقل اور شعور دیا ہے۔ وہ زمانہ کے فرق کو جاننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود وہ اس طرح عمل کرتا ہے جیسے وہ چمگادڑ نہ کہ عقل وہوش والا انسان۔
موجودہ زمانہ میں جو فرق پیدا ہوئے ہیں، ان میں سے ایک فرق یہ ہے کہ آج کا زمانہ کسی انسان کو اظہارِ رائے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ مگر تشدد کو وہ مکمل طور پر جرم قرار دیتا ہے۔ ماضی میں یہ فرق اتنی واضح صورت میں موجود نہ تھا۔ اب جو لوگ اس فرق کو سمجھیں وہ امن کے دائرہ میں رہ کر اپنا کام کریں گے، وہ تشدد کے دائرہ میں داخل نہ ہوں گے اور اس طرح کامیاب رہیں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنے ماضی کے ذہن کی بنا پر اس فرق کو نہ سمجھیں وہ اپنی جدوجہد میں اس کو ملحوظ نہ رکھیں گے۔ وہ امن کے دائرہ سے گزر کر تشدد کے دائرہ میں داخل ہو جائیں گے، اور نتیجہ ناکامی سے دوچار ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues