Al-Risala · May 1993 · page 8

روح دین

الرسالہ، مئی ۱۹۹۳، صفحہ ۸

روح دین

ایک سفر کے دوران مجھے ایک ایسے ملک میں جانا پڑا جہاں پہلے بادشاہی نظام تھا۔ بادشاہ کا خاتمہ ہوگیا۔ اب وہاں صدر راج قائم ہے۔ قدیم شاہی محل کی تمام شان و شوکت ہے۔ البتہ اب اس کو شاہی محل کے بجائے صدارتی محل کہا جاتا ہے۔

میں اور کانفرنس کے دوسرے شرکاء، صدر مملکت سے ملاقات کے لیے صدارتی محلی لے جائے گئے۔ ہم لوگ جب اس پُر ہیبت عمارت میں داخل ہوئے تو میں نے دیکھا کہ ہر ا کا انداز اچانک بدل گیا ہے۔ لوگوں پر خاموشی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ ان کی رفتار ست چہرے پر سنجیدگی کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ محل کی ہر چیز کو وہ پر رعب نظروں سے دیکھنے لگے۔ اس منظر کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں، وہ بھی خدا کا ایک عظ محل ہے۔ اس میں ہر طرف خدا کی عظمت و قدرت کے جلوے نمایاں ہیں۔ اس خدائی محل کے چلتے ہوئے مزید اضافے کے ساتھ آدمی پر وہ کیفیت طاری ہونا چاہیے جو کسی شاہی محل کے چلتے ہوئے اس کے اندر طاری ہوتی ہے۔

مگر جب میں دنیا کے راستوں میں لوگوں کو چلتے ہوئے دیکھتا ہوں تو یہ محسوس کرد میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ یہاں لوگ اس طرح چل رہے ہیں گو یا کہ انہیں عظیم حقیقت کی کوئی خبر ہی نہیں۔ لوگوں کے چہروں پر خشوع جھلکتا ہو نظر نہیں آتا جو از رو واقعہ ان کے چہروں پر جھلکنا چاہیے۔

لوگوں کے چہروں پر مجھے احتیاط کے بجائے غفلت نظر آتی ہے۔ ان کی چال تواضع - بجائے سرکشی کی چال معلوم ہوتی ہے۔ ان کے انداز پر ذمہ داری کے بجائے بے حسی کا غلبہ دکھ دیتا ہے۔ خدا کی دنیا میں چلتے ہوئے لوگ اتنا سنجیدہ بھی نظر نہیں آتے جتنا کوئی شخص کر ایوان صدارت یا کسی قصر شاہی میں چلتے ہوئے نظر آتا ہے۔

جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ انسانی محل میں چلتے ہوئے ان پر ہیبت طاری ہو مگر خدائی محمد میں چلتے ہوئے ان پر ہیبت طاری نہ ہو وہ خدا کی رحمت سے آج ہی دور ہوگئے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1993 All issues

Printed page