Al-Risala · June 1993 · page 11

سب سے بڑی ناقدری

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۱۱

سب سے بڑی ناقدری

آدمی کے اندر ایک سوئی کے زخم کو برداشت کرنے کی طاقت نبھیں، اس کے باوجود آدمی اتنے بڑے بے جرم کرتا ہے کہ اگر اس کو بلڈوزر کے نیچے ڈال کر پیس دیا جائے اور ہزار سال تک پیسا جاتا رہے۔ تب ہی وہ اس کی سزا کے لیے کافی نہ ہو ۔ ایک آہ کے ساتھ یہ الفاظ میری زبان سے نکلے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے آزادی دی ، اور اسی کے ساتھ اس کو اچھے اور برے کی تمیز عطا فرمائی۔ انسان کو اس طرح اس لیے پیدا کیا گیا تاکہ وہ خود اپنے ارادہ سے برائی کو چھوڑ دے اور اچھائی کو پکڑ لے۔ اپنے ذاتی فیصلہ کے تحت سرکشی سے بچے اور فرماں برداری کے طریقہ کو اپنا طریقہ بنائے ۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لیے ترقی اور کامیابی کا عظیم الشان موقع کھونا نہ تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کو وہ سب سے بڑا انعام دیا جائے جو وسیع کائنات میں کسی بھی دوسری مخلوق کو نہیں دیا گیا۔ یعنی سرکشی کا امکان ہوتے ہوئے خود اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو اللہ کی ماتحتی میں دیدینا ۔ یہ اللہ کے نزدیک انتہائی پسندیدہ عمل تھا۔ چنانچہ اللہ نے اس کے بدلہ میں انسان کے لیے ایسی ابدی جنتیں مقدر کیں جن سے زیادہ نفیس اور راحت چیز منصوبہ کے درجہ میں بھی کسی کے لیے ممکن نہیں۔

مگر انسان کو دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی کو اس واقعہ کی خبر ہی نہیں، جیسے کسی کو اس ربانی تصور سے کوئی دل چسپی ہی نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی کو فرصت ہی نہیں کہ وہ اس امکان کو جانے اور اس قیمتی موقع کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرے۔ تمام لوگ آنکھیں بند کر کے جہنم کی طرف بھاگے جا رہے ہیں ، کسی کو جنت کے دروازے کی طرف دیکھنے کی جیسے فرصت ہی نہیں۔ یہ گویا خدا کی پکار کو نظر انداز کرنا ہے ۔ یہ خدا کی میزبانی کو قبول نہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی ناقدری ہے جو کوئی انسان کر سکتا ہے ۔ اور سب سے بڑی ناقدری کا انجام سب سے بڑی سزا کے سوا اور کچھ نہیں۔

آہ وہ ددنیا جہاں لوگ جہنم کا لفظ بولیں مگر کوئی جہنم سے ڈرنے والا نہ ہو۔ جہاں لوگ جنت کا نام لیں مگر کوئی نہ ہو جو جنت کی سچی طلب سے اپنے سینہ کو آباد کیے ہوئے ہو۔ کیسی عجیب ہے یہ نیا اور کیسی عجیب ہوگی اس دنیا کے بعد آنے والی آخرت۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page