Al-Risala · June 1993 · page 12

امن کمیٹی

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۱۲

امن کمیٹی

دہلی کے اردو روزنامہ قومی آواز ( ۱۹ جنوری ۱۹۹۳) میں ایک خبر شائع ہوئی ہے۔ اس کا عنوان ہے : مسجد، مندر سے لاؤڈ اسپیکر ہٹا لینے کا کولہا پور میں متفقہ فیصلہ۔ پوری خبر اس طرح ہے: "مسلم مذہبی رہنماؤں اور بھارتیہ لوک آندولن کے رہنماؤں نے مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا اور مہا آرتی فوراً ختم کر دینے کا متفقہ فیصلہ کر لیا ہے۔

ضلع مجسٹریٹ کے ترجمان نے بتایا کہ ۱۶ جنوری کو ضلع کلکٹر اجیت کمار جین کی جانب سے امن کی اپیل کے جواب میں گزشتہ رات یہاں مسلم مذہبی رہنماؤں اور آٹھی بھارتیہ لوک آندولن کے رہنماؤں کی ایک میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعہ نماز اور مہا آرتی کی وجہ سے پچھلے ایک ہفتے سے شہر میں کشیدگی پیدا ہو رہی تھی۔ اس کے نتیجہ میں شہر میں آتش زنی اور پتھراؤ کی وارداتوں کی اطلاعات مل رہی تھیں۔

ضلع کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس فیصلہ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے شہر میں امن اور بھائی چارہ برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ (صفحہ ۱)

یہ ایک خوش کن چیز ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں، دونوں نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ باہمی اختلاف پیش آنے کی صورت میں وہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی نہیں کریں گے۔ بلکہ وہ اپنے اختلافات کو بھائی چارہ کے اصول پر حل کریں گے۔ ضرورت ہے کہ ہر شہر اور ہر بستی میں امن کمیٹی بنائی جائے ۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں طرف کے بزرگ لوگ شامل ہوں ۔ جب بھی دونوں فرقوں میں کوئی اختلافی بات پیش آئے یا کسی بات پرتناؤ کی فضا ہو تو فوراً امن کمیٹی کے لوگ بیٹھ کر مشورہ کریں۔ اور باہمی مشورہ سے معاملہ کو ختم کرنے کی کوشش کریں ۔

امن کمیٹی اس قسم کے مسائل کو حل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ تجربہ ہے کہ جہاں کہیں بھی امن کمیٹی بنائی گئی وہاں وہ فساد کے خلاف ایک طاقتور چیک بن گئی۔ اسی کامیاب تجربہ کو ہر جگہ دہرانے کی ضرورت ہے، خواہ وہ چھوٹی جگہ ہو یا کوئی بڑی جگہ ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page