Al-Risala · June 1993 · page 14

ہند و مسلم ڈائیلاگ

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۱۴

ہند و مسلم ڈائیلاگ

ڈاکٹر سید عابد حسین (۱۹۶۸-۱۸۹۶) نے اپنی کتاب مسلمانانِ ہند کی تقدیر میں یہ نشاندہی کی ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد انڈیا میں The Destiny of Indian Muslims جو انقلاب آیا ہے، اس کے بعد یہاں کے سماجی اور سیاسی حالات میں بنیادی تبدیلی آچکی ہے۔ اب انڈیا میں جمہوریت کا نظام ہے۔ مگر ہندوستانی مسلمان ابھی تک قدیم حاکمانہ دور میں سوچ رہے ہیں۔ سوچ کا یہ پچھڑا پن ہی ان کے تمام مسائل کا بنیادی سبب ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے برٹش دور میں ان کا سابقہ ایک ایسی گورنمنٹ سے تھا جو یہاں کے عوام کے سامنے جواب دہ نہیں تھی۔ اس کی حیثیت ایک مختارِ کل (Supreme Arbiter) کی سی تھی جو عوام کی مرضی کا لحاظ کیے بغیر کارروائی کر سکتی تھی۔ مگر اب انڈیا ایک جمہوریت ہے۔ اب یہاں کے حکمران کو عوام کی مرضی کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ یہاں کے عوام سے اپنے معاملات طے کریں نہ کہ حکمرانوں سے۔

مگر انڈیا کے مسلمان اب بھی اپنے معاملات میں حکومت کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ آج بھی اپنے مسائل کو گورنمنٹ کے پاس لے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل کو حل کر دے گی: But Muslims still labour under the impression that solution of their problems is in the hands of the Government. To the Government alone they take their troubles and from it alone they expect a remedy (p.295). مسلمانانِ ہند کی جدید تاریخ کے بارہ میں یہ تبصرہ بالکل درست ہے۔ اور بابری مسجد اجودھیا کے نام پر اٹھائی جانے والی تحریک اس کی بدترین مثال ہے۔ ۱۹۸۶ کے بعد مسلمانوں کے نااہل لیڈروں نے جس طرح بابری مسجد تحریک کو چلایا، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ انھوں نے اس ایشو پر ہندو عوام سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا، اور حکومت کی یہ ذمہ داری سمجھی کہ وہ ان کی طرف سے کافی ہو جائے اور اس معاملہ میں مختارِ کل بن کر ان کے حق میں فیصلہ دیدے۔ مگر ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے واقعہ نے بتایا کہ یہ مفروضہ سراسر غلط تھا۔ ۱۵ اگست ۱۹۹۲ کی تقریر

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page