فرق کو جانئے
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۱۳
فرق کو جانئے
رشید احمد صدیقی (۱۸۹۲ء-۱۹۷۷ء) اردو کے مشہور ادیب تھے۔ وہ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر تھے۔ آل احمد سرور نے ان کا ایک واقعہ اس طرح لکھا ہے : ڈاکٹر ضیاء الدین نے نظام حیدر آباد کو علی گڑھ بلایا۔ ایڈریس لکھنے کی خدمت رشید صاحب کے سپر د ہوئی۔ رشید صاحب نے بڑے چاؤ سے ایڈریس لکھا، اور مجھے بھی سنایا۔ میں نے کہا "دیکھ لیجیے گا، پسند نہ آئے گا۔ " بولے "کیوں؟ " میں نے کہا: "اس میں خوشامد کم ہے، ادبی رنگ زیادہ، ڈاکٹر صاحب کی سمجھ میں نہ آئے گا۔ " یہی ہوا۔ ایڈریس سن کر کہنے لگے "کچھ جچا نہیں، پھر کوشش کیجیے۔ " رشید صاحب نے نظر ثانی کی اور پھر پیش کیا۔ رشید صاحب نے لکھا تھا: "مغلوں کے عہد نے ہندوستان کو تین تحفے دیے ۔ تاج محل، غالب اور دولت آصفیہ۔ " اس پر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ "نظام حیدر آباد کے سلسلے میں تاج محل کے ذکر کا کیا موقع ہے؟ " غرض کئی دفعہ ایڈریس میں کانٹ چھانٹ ہوئی اور ڈاکٹر ضیاء الدین اور ان کے حواریوں کی جبین پر شکن ہی رہی۔ آخر رشید صاحب نے کہا کہ "مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ آپ کسی اور سے لکھوا لیجیے۔ " اس پر ڈاکٹر صاحب بہت چراغ پا ہوئے، اور رشید صاحب کی غیبت میں کہنے لگے کہ "اگر اردو شعبے کے لوگ ایک ایڈریس نہیں لکھ سکتے، تو ایسے شعبے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ " (رشید احمد صدیقی، مرتبه مالک رام ، صفحه ۴۴)
ڈاکٹر ضیاء الدین (سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) ایک سائنس داں تھے۔ مگر انھوں نے اپنے اس تبصرہ میں ایک غیر سائنسی بات کہی۔ ان کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے ایڈریس اور قصیدہ میں فرق نہیں کیا۔ شعبہ اردو جس مضمون کو تیار کرنے میں "ناکام" ہوا تھا، وہ مدحیہ قصیدہ تھا نہ کہ الواقع ایڈریس۔ اس کا تیار کردہ مضمون پورے معنوں میں ایڈریس تھا، البتہ وہ مدحیہ قصیدہ نہ تھا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرے۔ عام طور پر لوگ اس طرح فرق کر کے نہیں سوچ پاتے، اس لیے وہ اکثر رائے قائم کرنے میں غلطی کر جاتے ہیں۔ وہ ایک صورتِ معاملہ پر دوسری صورتِ معاملہ کو قیاس کر لیتے ہیں۔ حالانکہ دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues