ہند و مسلم ڈائیلاگ
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۱۶
ایسی حالت میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد نے یہ ناقابل فہم نادانی کیوں کی کہ انہوں نے وزیر اعظم سے مل کر یہ مطالبہ کیا کہ مندر کو توڑ کر دوبارہ وہیں مسجد بناؤ۔ اس کی واحد وجہ ان کی بے شعوری ہے۔ وہ ابھی تک پچاس سال پہلے والے ہندوستان میں سوچ رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں کہ آج انڈیا میں عوام کی حکومت ہے، نہ کہ کسی مطلق العنان بادشاہ کی حکومت ۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنی اس روش کو بدل لیں۔ وہ حکومت یا ایڈمنسٹریشن کی طرف دیکھنے کے بجائے ہندو عوام کی طرف دیکھیں۔ مسلم رہنما ہندو رہنما سے ملیں۔ مسلم عوام اور ہندو عوام میں زیادہ سے زیادہ تعلقات بڑھائے جائیں۔ ہر سطح پر ہند و اور مسلم میل جول کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ تاکہ دونوں فرقوں میں ایک دوسرے کے خلاف غلط فہمیاں دور ہوں تاکہ باہمی تناؤ کے حالات ختم ہوں اور دونوں فرقے خوش گوار تعلقات کے ساتھ مل کر رہنے لگیں ۔ ڈائیلاگ کی ضرورت ہمارے مسائل کا حل مسلم حکمران ملاقات نہیں ہے بلکہ مسلم۔ ہندو ملاقات ہے۔ آج شدید ترین ضرورت ہے کہ کل ہند سطح کا ایک ہندو۔ مسلم ڈائیلاگ منعقد کیا جائے۔ اس میں دونوں فرقوں کے سنجیدہ اور با اثر افراد جمع ہوں۔ اس کا مقصد خالص غیر سیاسی انداز میں امن کی تلاش ہو۔
اس ڈائیلاگ میں دونوں فرقوں کے لوگ کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے اپنی بات رکھیں۔ وہ کوشش کریں کہ باہمی نزاع کی صورت حال ختم ہو اور وہ مشترکہ بنیاد دریافت کی جائے جس کو اختیار کر کے دونوں فرقے اچھے پڑوسی کی طرح ایک ساتھ رہنے لگیں۔ اس قسم کا ڈائیلاگ اسلامی شریعت کے عین مطابق ہے۔ اسلام کی تاریخ میں حدیبیہ کا واقعہ اسی قسم کا ایک کامیاب ڈائیلاگ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت (۶۲۲ء) کے بعد قدیم عرب میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات بہت خراب ہو گئے۔ کئی جنگیں اور جھڑپیں واقع ہوئیں۔ ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی دیواریں کھڑی ہو گئیں۔
آخر کار پیغمبر اسلام ﷺ نے ۶۲۸ء میں مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر تقریبا دو ہفتہ قیام) کیا۔ یہاں آپ نے مکہ کے غیر مسلم سرداروں سے گفت و گو کی۔ اور پھر ان کی اکثر شرطوں کو مانتے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues