Al-Risala · June 1993 · page 17

ہند و مسلم ڈائیلاگ

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۱۷

مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ایک معاہدہ پر دستخط کیے جو کہ اسلام کی تاریخ میں معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔

یہ ڈائیلاگ اگر فی الواقع سنجیدگی اور انصاف کے ساتھ کیا جائے تو وہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا۔ انڈیا کی تاریخ آج جہاں رکی ہوئی ہے وہ ہندو مسلم تعلقات کا مسئلہ ہے۔ اگر یہ مسئلہ ایک بار حل ہو جائے تو اس کے بعد دونوں فرقوں کے درمیان نارمل تعلقات قائم ہو جائیں گے۔ اور ایسا ہونے کے بعد کوئی بھی دوسری چیز انڈیا کی ترقی کو روکنے والی نہیں۔

ڈائیلاگ کی کامیابی اس پر منحصر ہوگی کہ دونوں فریق ڈائیلاگ کو مناظرہ نہ بنائیں۔ وہ اپنے اپنے فرقہ کے وکیل بن کر نہ بولیں بلکہ یہ سوچ کر بولیں کہ وسیع تر قومی مفاد کس چیز میں ہے، اور ملک کی مشترک بھلائی کا راستہ کیا ہے۔

دونوں فریق کو اپنے آپ سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ اشوز اور نان اشوز میں فرق کریں گے۔ وہ کسی معاملہ کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ نہیں بنائیں گے۔ وہ کلیم اور کاؤنٹر کلیم کا طریقہ اختیار نہیں کریں گے ۔ وہ جو بھی کہیں گے رزلٹ کو سامنے رکھ کر کہیں گے۔ ان کا انداز غیر جانب داری کا ہوگا نہ کہ طرفداری کا۔ وہ منوانے کے ساتھ ماننے کے لیے بھی تیار رہیں گے۔ وہ دوسرے سے لینا بھی چاہیں گے اور دوسرے کو دینا بھی۔

ڈائیلاگ کوئی حریفانہ میٹنگ نہیں، وہ برادرانہ میٹنگ ہے۔ اس کو ہار جیت کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر انجام دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد معاملہ کو سلجھانا ہوتا ہے نہ کہ معاملہ کو الجھانا۔ ڈائیلاگ کے پیچھے مفاہمت کا جذبہ ہونا چاہیے نہ کہ مقابلہ کا جذبہ۔

ڈائیلاگ کا مطلب یہ ہے کہ اختلافی معاملہ کو ٹکراؤ کے بجائے بات چیت کے ذریعہ حل کیا جائے۔ اگر اس اسپرٹ کے ساتھ ڈائیلاگ شروع کیا جائے تو اس کی کامیابی یقینی ہے۔ ہمارے لک ی ترقی کا دروازہ تقریباً آدھی صدی سے بند پڑا ہوا ہے۔ اور یہ ڈائیلاگ اس بند دروازہ کو یقیناً کھول سکتا ہے، بشرطیکہ اس کو سچی اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page